برطانیہ :صدیوں پرانی روایت،اشرافیہ خاندانوں کے موروثی ارکان کی92 نشستیں ختم
لندن (اے ایف پی)برطانیہ کی پارلیمنٹ نے موروثی ارکان کی 92 نشستیں ختم کر دیں جو اشرافیہ کے خاندانوں کیلئے مخصوص تھیں۔بدھ کو موروثی ارکان آخری بار ہاؤس آف لارڈز میں نشستوں پر بیٹھے ۔۔۔
یہ ارکان ڈیوک، وِسکاؤنٹ اور ارل جیسے القابات رکھتے تھے ، لارڈز میں انکی موجودگی پندرہویں صدی سے جاری تھی ۔قانون سازوں نے انکے ایوان سے جانے کی منظوری گزشتہ ماہ دی تھی جو بدھ کو نافذ ہوئی،لارڈز میں تقریباً 800 ارکان شامل ہیں جن میں زیادہ تر عمر بھر کیلئے مقرر کیے جاتے ہیں۔ان میں سابق رکنِ پارلیمنٹ شامل ہیں جو عام طور پر رخصت ہونے والے وزرائے اعظم کی سفارش پر مقرر ہوتے ہیں، وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اہم عوامی یا نجی شعبے میں خدمات انجام دینے کے بعد نامزد ہوتے ہیں۔ چرچ آف انگلینڈ کے سینئر مذہبی رہنما، بشمول کینٹربری کے آرچ بشپ بھی ایوان میں بیٹھتے ہیں۔سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے 1990 کی دہائی کے آخر میں 600 موروثی ارکان کو ہٹا دیا تھا لیکن 92 ارکان عارضی سمجھوتے کے تحت برقرار رکھے گئے تھے ۔ارکانِ پارلیمنٹ اور لارڈز 13 مئی کو پارلیمنٹ واپس آئیں گے جب کنگ کا خطاب ہوگا اور حکومت آئندہ سال کیلئے قانونی منصوبے پیش کرے گی۔