یکم مئی کے بعد صدر ٹرمپ کا جنگی اختیار محدود

یکم مئی کے بعد صدر ٹرمپ کا جنگی اختیار محدود

کانگریس کی منظوری کے بغیر صدر 60 دن تک فوج کو جنگ میں شامل کر سکتا

واشنگٹن(دنیا مانیٹرنگ)امریکا اور ایران غیر یقینی جنگ بندی پر عمل کر رہے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس متعدد بار یہ کہہ چکا ہے کہ اگر تہران چند شرائط جن میں کسی بھی قسم کے جوہری عزائم ترک کرنا بھی شامل ہے ، تسلیم نہیں کرتا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے تاہم انتظامیہ کیلئے فضائی حملے دوبارہ شروع کرنا وار پاورز ریزولوشن کی وجہ سے پیچیدہ ہو گیا ہے ۔ یہ 1973 کا قانون صدر کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کیلئے بنایا گیا تھاجسکے مطابق کانگریس کی منظوری کے بغیر صدر صرف 60 دن تک امریکی فوج کو مسلح تنازع میں شامل کر سکتا ہے ، جسکے بعد کانگریس میں ووٹنگ لازم ہو جاتی ہے ۔ برطانوی میڈیاکے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس اس آخری تاریخ سے کیسے نمٹے گا جو یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ کیلئے کانگریس میں ووٹنگ مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے ۔اگرچہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل ہے تاہم جنگ جیسا سنگین معاملہ دونوں جماعتوں میں وفاداریوں کا امتحان لے سکتا ہے جس سے ووٹ کا نتیجہ غیر یقینی ہو جائے گا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں