مغربی بنگال:بی جے پی جیت کے بعد ہنگامے ،خواتین کی بے حرمتی
کولکتہ(نیوز ایجنسیاں)مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ۔
شمالی 24 پرگنہ ضلع کے باراسات علاقے میں بی جے پی کے کارکنوں نے مسجد پارہ روڈ کا نام بدل کر نیتاجی پلی روڈ کر دیا ۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کارکن سیڑھی لگا کر گیٹ پر درج نام کو توڑ رہے ہیں ۔ایک اور ویڈیو میں کچھ افراد ایک شخص کو سفید ساڑھی پہنا کر اس کے ساتھ مارپیٹ کرتے اور اسے سڑک پر گھماتے ہوئے نعرے بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ ایک شخص کو ممتا بینرجی جیسا بنا کر اس کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے ، جو سیاسی انتقام اور نفرت کی علامت ہے ۔ایک اور ویڈیو میں بی جے پی کارکن ایک ادھیڑ عمر خاتون کو گھیر کر نعرے بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں کولکتہ کے بیلیاگھاٹ علاقے میں پارٹی دفتر پر حملہ اور توڑ پھوڑ کا منظر دکھایا گیا ہے ۔ ویڈیو میں کچھ افراد ایک شخص کو گھسیٹتے ہوئے لاتے ہیں اور مارپیٹ کرتے ہیں۔ دیگر ویڈیوز میں بھی مبینہ طور پر لاٹھیوں سے لیس افراد گلیوں میں گھومتے ، لوگوں کو دھمکاتے اور دروازوں پر کھڑے افراد کو نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ترنمول کانگریس کے مطابق بیلی، علی پور دوار، جلپائی گوڑی، مانیک تلا، آسنسول، سلی گوڑی اور بہرام پور سمیت کئی علاقوں میں پارٹی دفاتر پر حملے ، آتشزدگی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے ایکس پر لکھا کہ پورے بنگال میں مسلسل توڑ پھوڑ جاری ہے ۔ سڑکوں پر سناٹا ہے اور ماحول افسردہ ہے ،دکانیں زبردستی بند کرائی جا رہی ہیں۔ موٹر سائیکلوں پر سوار لوگ نعرے لگاتے ہوئے گھوم رہے ہیں،سماج کے ہر طبقے کے مردو خواتین کو دھمکایا جا رہا ہے ۔