چین :کرپشن پر دو سابق وزرائے دفاع کو معطل سزائے موت
دو سال بعد سزا عمر قید میں تبدیل ، جائیداد ضبط ، تاحیات سیاسی حقوق سے محروم
بیجنگ (اے ایف پی)جمعرات کے روز ایک چینی فوجی عدالت نے کرپشن کے مقدمات میں دو سابق وزرائے دفاع کو معطل سزائے موت سنا دی ہے ، جو صدر شی جن پنگ کی بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کا تازہ ترین اقدام ہے ۔یہ بیجنگ کی جانب سے اعلیٰ فوجی حکام کو دی جانے والی اب تک کی سخت ترین سزائیں ہیں، جو 2012 میں شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہونے والی وسیع انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ ہیں۔سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق72سالہ وے فینگھے اور68سالہ لی شانگفو کو سنائی گئی سزائیں دو سال کی مہلت کے بعد عمر قید میں تبدیل کر دی جائیں گی۔یہ دونوں سابق وزرائے دفاع 2018 سے 2023 کے درمیان اس عہدے پر فائز رہے اور چین کی طاقتور مرکزی فوجی کمیشن (CMC) کے بھی سابق رکن تھے ، جو فوج کی نگرانی کرتی ہے اور اس کی سربراہی صدر شی جن پنگ کرتے ہیں۔یہ دونوں دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ سرکاری ٹی وی پر بھی باقاعدگی سے نظر آتے رہے ہیں۔دونوں سے سیاسی حقوق زندگی بھر کے لیے چھین لیے گئے ہیں اور ان کی ذاتی جائیداد بھی ضبط کر لی گئی ہے ۔