قوی امید ہے ایران امریکا جنگ بندی پائیدار، خطے میں امن ہوگا : شہباز شریف

قوی امید ہے ایران امریکا جنگ بندی پائیدار، خطے میں امن ہوگا : شہباز شریف

پاکستان کا کردار تاریخ یاد رکھے گی،گلگت میں 4 دانش سکولوں کا سنگ بنیاد، لیپ ٹاپس تقسیم ،قطری وزیراعظم کا فون

اسلام آباد،گلگت(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا قوی امید ہے ایران امریکا جنگ بندی پائیدار اور خطے میں امن ہوگا،پاکستان نے امریکہ ایران جنگ رکوانے اور خطے میں امن کیلئے جو کردار ادا کیا تاریخ اسے یاد رکھے گی،انہوں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں اور علاقوں کو یکساں ترقی کیلئے ساتھ لے کر چلنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسماندہ علاقوں میں بھی ایچی سن کے معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جہاں ہونہار بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں، گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو جائے گا، میرٹ پر لیپ ٹاپس کی فراہمی سے نوجوان اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوں گے ، قیام پاکستان کے بعد سے آج وہ موقع آیا ہے کہ خیبر سے کراچی تک پوری قوم متحد ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں شمسی توانائی کے منصوبوں، دانش سکولوں کے سنگ بنیاد، سیف سٹی گلگت اور سیف سٹی سکردو کے افتتاح، مفت سولر پینلز کی تقسیم، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت طلباء میں لیپ ٹاپس کی تقسیم اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت کاروباری اور زرعی قرضوں کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج انہیں ایک بار پھر گلگت بلتستان آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے ، یہ نہ صرف خوبصورت علاقہ بلکہ قابل محنتی اور ہونہار طلباء و طالبات کا خطہ ہے جو پاکستان کا فخر ہیں۔ انہوں نے محنت سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے والدین اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلباء میں لیپ ٹاپس کی تقسیم نہ صرف ان کی تعلیمی قابلیت کا اعتراف ہے بلکہ اس کے ذریعے وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہوں گے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ 1997ء میں جب مجھے میرے قائد نواز شریف اور میری جماعت مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کا خادم اعلیٰ مقرر کیا تب سے آج تک میں نے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس وقت میرٹ کو سکہ رائج الوقت بنایا جب کوئی اس تصور سے آشنا نہیں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے محنت، امانت اور دیانت کو اپنا شعار بنانا ہو گا، ایچی سن کے معیار کی تعلیم دانش سکولوں میں فراہم کی جا رہی ہے ، مجھ پر بڑی تنقید ہوئی کہ سرکاری سکولوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے دانش سکولوں پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے لیکن آج ہزاروں طلباء و طالبات ان سکولوں سے پڑھ کر ڈاکٹرز، انجینئرز بن چکے اور غیر ملکی یونیورسٹیوں میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اگر امراء کے بچے ایچی سن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں تو ہونہار طلباء و طالبات کو مفت تعلیم کے مواقع کیوں نہیں مل سکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے چاروں دانش سکولوں کی طالبات کیلئے نہ صرف تعلیم مفت ہو گی بلکہ کتابیں، یونیفارم، کھانا بھی مفت فراہم کیا جائے گا اور سمارٹ بورڈز، ای-لائبریری سمیت جدید تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی گلگت بلتستان میں شمسی توانائی کے منصوبے پر کام شروع کیا، 100 میگاواٹ کا منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو گا، شفاف اور ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے 15 ہزار گھرانوں میں مفت سولر پینلز تقسیم کئے جائیں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سب کا سانجھا ہے ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ترقی کے عمل میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، اس کیلئے جو بھی وسائل میسر ہوئے عوام کے قدموں پر نچھاور کریں گے ۔

وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے مابین جنگ بندی کیلئے پاکستان کے کلیدی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھائی اور ہمسائے کی حیثیت سے خطے میں امن کیلئے جو کردار ادا کیا تاریخ اسے بیان کرے گی، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دن رات امریکا اور ایران سے رابطہ میں رہی اور جنگ بندی کرائی۔ انہوں نے دیرپا جنگ بندی اور امن کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آج 78 سال بعد یہ موقع آیا ہے کہ خیبر سے کراچی تک خطے میں امن اور جانیں بچانے کیلئے پوری قوم متحد ہے ۔ وزیراعظم نے جنگ بندی اور امن کیلئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔ قبل ازیں وزیراعظم نے ہونہار طلبائو طالبات میں لیپ ٹاپس اور بزنس اور یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں میں چیک تقسیم کئے ۔

وزیراعظم نے سلطان آباد، گانچھے ، استور سمیت گلگت بلتستان میں چار دانش سکولوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے سیف سٹی گلگت اور سیف سٹی سکردو اور شمسی توانائی کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غریب ترین بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے ، اساتذہ کا انتخاب مقامی سطح پر اور 100 فیصد میرٹ پر کیا جائے ، لڑکے اور لڑکیوں کیلئے الگ الگ سکول بنائے جائیں جہاں سمارٹ بورڈز، لیپ ٹاپس، ای-لائبریریز کے علاوہ سپورٹس کی جدید سہولیات بھی فراہم کی جائیں، یہ پاکستان کی بہترین تعلیم گاہیں ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم نے سیف سٹی منصوبوں کا معیار بھی پنجاب کی طرز پر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سیف سٹی منصوبوں کے تحت 385 جدید ترین کیمرے نصب کئے جائیں گے ۔تقریب میں ہونہار طلباء و طالبات کے اعزاز میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔دریں اثنا شہبازشریف کو قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالر حمن بن جاسم آل ثانی کی ٹیلیفون کال موصول ہوئی، دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام امیر قطر کے جلد پاکستان کے دورے کے منتظر ہیں اور ان کا دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور گہرا بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

قطر کے وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا اور انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو یقین دلایا کہ قطر مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔شہباز شریف نے ریڈ کراس و ریڈ کریسنٹ کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا آئیے تمام فریقین بشمول حکومت، سول سوسائٹی، نجی شعبہ، بین الاقوامی شراکت دار اور سماجی طبقات مل کر ایک محفوظ، صحت مند اور مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے کام کرنے کا تجدید عہد کریں۔ میں تمام شہریوں سے بھی یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمدردی، رضاکارانہ خدمت اور یکجہتی کی اقدار کو اپنائیں۔ آئیے ہم سب انسانیت کی خدمت اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کے عزم پر متحد ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں