بھارت :گھروں میں 25سے 27ہزار ٹن سونا موجود
بھارت میں سونے کی درآمدات ریکارڈ سطح پر، زرمبادلہ ذخائر شدید دباؤ کا شکار عالمی توانائی بحران، مہنگا سونا ،کمزور روپیہ، بھارتی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی حکومت کی عوام سے سونا کم خریدنے ، پٹرول بچانے ، درآمدات گھٹانے کی اپیل
نئی دہلی (مانیٹرنگ سیل )بھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کو ماہرین نے ملک کے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ سے جوڑا ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث بھارتی زرمبادلہ ذخائر اور روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے ، جبکہ سونا خام تیل کے بعد ملک کی بڑی درآمدات میں شامل ہو چکا ہے ۔ماہرین کے مطابق انڈیا کی سونے کی درآمدات 60 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے ، جو ایک ریکارڈ سطح ہے ۔ جولائی 2024 میں درآمدی ڈیوٹی 15 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کیے جانے کے بعد سونے کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سونے کا شمار اب خام تیل کے بعد بھارت کی سب سے بڑی درآمدات میں ہوتا ہے اور درآمدات پر چونکہ ڈالرز خرچ ہوتے ہیں اس لیے یہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کا باعث بنتی ہیں۔اقتصادی امور کے ماہر اکشَت گرگ کے مطابق مالی سال 2025 میں بھارت کی سونے کی درآمدات کا اندازہ تقریباً 58 سے 60 ارب ڈالر کے درمیان ہے ، جو کہ اب تک ریکارڈ شدہ سب سے بڑی سونے کی درآمد ہے ۔پاکستان کی طرح بھارت میں بھی سونا گھریلو بچت کا اہم حصہ ہے ۔
انڈیا گولڈ پالیسی سینٹر کی سربراہ پروفیسر سندر وَلّی نے بتایا کہ بھارت میں ہر سال 600 سے 700 ٹن سونا درآمد ہوتا ہے ، جبکہ اس کے برعکس اس کی برآمد انتہائی کم ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ انڈین گھروں میں بہت سا سونا موجود ہے ۔ گھروں میں موجود سونے کے بارے میں مختلف اندازے ہیں، لیکن عمومی اندازہ ہے کہ یہ 25 ہزار سے 27 ہزار ٹن کے قریب ہے ۔اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنی ضرورت کا 90 فیصد سے زیادہ سونا درآمد کرتا ہے ، جبکہ سونے کی درآمدات ملک کے تجارتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت عوام کو پٹرول کی بچت، ورک فرام ہوم اور غیر ضروری درآمدات کم کرنے کی تلقین کر رہی ہے ۔