امریکا کا دھمکی آمیزرویہ امن میں بڑی رکاوٹ :ایران

امریکا کا دھمکی آمیزرویہ امن میں بڑی رکاوٹ :ایران

موجودہ صورتحال کیوجہ امریکا اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں:عباس عراقچی اجازت کے بغیر ایک قطرہ تیل آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکے گا:پاسداران انقلاب

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایران نے امریکا کے دھمکی آمیز رویے ، اشتعال انگیز بیانات اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کو خطے میں کشیدگی اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھونس اور زبردستی کے  ذریعے حقیقی امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ناروے کے نائب وزیر خارجہ اندریاس کراوک سے ملاقات میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی عسکری کارروائیاں اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے مطابق نئے ضوابط پر مشاورت کر رہا ہے ۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ دنیا اگر بربریت اور بالادستی کو مسترد کرتی ہے تو اسے ایران کے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات میں جنگ کا مستقل خاتمہ، نقصانات کا ازالہ، بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے حقوق کا احترام بنیادی اصول ہوں گے ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے کرائے گئے سمجھوتوں سے پائیدار امن ممکن نہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے عہدیدار کیپٹن سعید سیہ سرانی نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز امریکی افواج کیلئے قبرستان بن سکتی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اگر فیصلہ کیا گیا تو ایران کی اجازت کے بغیر ایک قطرہ تیل بھی آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکے گا۔ ایران اس وقت سمارٹ ناکہ بندی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور غیر روایتی بحری جنگ کیلئے مکمل تیاری رکھتا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں تک ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی افواج کے سٹراٹیجک کنٹرول میں ہے ، جہاں مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہاز ایرانی افواج کی نگرانی میں سفر کریں گے تاکہ سکیورٹی اور خودمختاری کو یقینی بنایا جا سکے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں