اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کی غیر قانونی اموات ہوئیں :یو این

 اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کی غیر قانونی اموات ہوئیں :یو این

52 کیسز میں تشدد، 33 میں زیادتی، جبکہ 94 اموات کی تحقیقات نہیں ہوئیں امریکا نے غزہ جانے والی امدادی کشتی سے وابستہ 4افراد پر پابندیاں عائد کر دیں

نیو یارک،تل ابیب (اے ایف پی)اقوام متحدہ کی ماہر ایلس جل ایڈورڈز نے منگل کو خبردار کیا کہ اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ تشدد کیا گیا اور ممکنہ غیر قانونی اموات ہوئی ہیں۔ ایڈورڈز کے مطابق 52 کیسز میں جسمانی تشدد، 33 میں جنسی زیادتی، جبکہ 94 اموات کی تحقیقات نہیں ہوئیں۔ قیدیوں پر تشدد میں سخت مارپیٹ، نیند کی کمی، بھوک، برقی جھٹکے اور غیر انسانی حالات شامل ہیں۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ جیل قوانین اور پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور مکمل شفاف تحقیقات کی جائیں۔دوسری جانب واشنگٹن نے منگل کو غزہ جانے والی امدادی کشتی سے وابستہ چار افراد پر پابندیاں عائد کیں، جنہیں دہشت گرد دوست قرار دیا گیا۔ امریکی سیکرٹری خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے ۔ پابندی کے شکار افراد میں فلسطینی نژاد ہسپانوی سیف ابو کشیک، بلجیم کے محمد خطیب اور دیگر شامل ہیں، جن پر مسلح فلسطینی گروپوں سے تعلق کا الزام ہے ۔اسرائیلی وزیرِ خزانہ بزلیل سموتریچ نے دعویٰ کیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست دائر کی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فلسطینی اتھارٹی اس کارروائی کے پیچھے ہے ، تاہم آئی سی سی نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے ۔ اس سے قبل عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم اور سابق وزیرِ دفاع کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات پر وارنٹ جاری کیے تھے ۔اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ’’کان‘‘نے منگل کے روز بتایا کہ اسرائیلی بحریہ نے غزہ فلوٹیلا میں شامل زیادہ تر کشتیوں کو قبرص کے قریب روک کر 250 کارکن گرفتار کر لئے ہیں ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں