شاید ایران پر حملہ کرنا پڑے، وقت بہت کم: ٹرمپ ، ایسا ہوا تو نئے محاذ کھول دینگے : ایرانی فوج
ایرانی قیادت معاہدے کیلئے منت سماجت کررہی،معاہدہ نہ ہوا تو دو یا تین دن میں حملہ ہوسکتا:امریکی صدر،پاکستانی ثالثی میں جاری کوششوں کو وقت دیا جائے :قطر ایرانی امن تجویز میں تمام محاذوں پر جنگ بندی،امریکی فوج کا انخلا،ہرجانہ شامل،ہرمز کا انتظام سنبھالے رکھنے پر اصرار،امریکا کی ایرانی زرمبادلہ ایکسچینج ہاؤس پر پابندی
دبئی،واشنگٹن (رائٹرز،اے ایف پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ امریکا کو ممکن ہے ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے اور وہ حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے ، لیکن بعد میں انہوں نے اس حملے کو مؤخر کر دیا۔ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ، ایک دن بعد جب انہوں نے کہا تھا کہ تہران کی جانب سے نئی امن تجویز آنے کے بعد انہوں نے حملے دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی قیادت معاہدہ کرنے کے لیے منت سماجت کر رہی ہے لیکن اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا آئندہ چند دنوں میں دوبارہ حملہ کر سکتا ہے ۔ٹرمپ نے کہا میرا مطلب ہے دو یا تین دن، شاید جمعہ، ہفتہ یا اتوار، یا پھر اگلے ہفتے کے آغاز میں وقت بہت محدود ہے ، کیونکہ ہم انہیں نیا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔اس سے پہلے ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ تہران کی نئی امن تجویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی، ایران کے قریب علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا اور امریکا ،اسرائیل جنگ سے ہونے والی تباہی کا ہرجانہ شامل ہے۔دوسری جانب ایران کی فوج نے منگل کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے شروع کیے تو وہ نئے محاذ کھول دے گی۔
فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ایران کی فوج نے جنگ بندی کو اپنی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے ۔قطر جس نے جنگ کے دوران امریکا ،اسرائیل حملوں کے بعد تہران کی جوابی کارروائیوں کا سامنا کیا تھا نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری کوششوں کو ایران،امریکا مذاکرات کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے ۔قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے پریس کانفرنس میں کہا ہم پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جس نے فریقین کو ایک ساتھ لانے اور حل تلاش کرنے میں سنجیدگی دکھائی ہے ، اور ہمیں یقین ہے کہ اس عمل کو مزید وقت کی ضرورت ہے ۔ ایرانی فوجی عہدیدار اکرمینیا نے دوبارہ کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالے رکھے گا اور امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایرانی قوم کا احترام کرے اور اسلامی جمہوریہ کے جائز حقوق کو تسلیم کرے ۔پیر کے روز ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا، جس کا مقصد اس آبی گزرگاہ میں ٹریفک کو کنٹرول کرنا ہوگا اور یہ کنٹرول ایرانی مسلح افواج کی جانب سے طے کردہ حدود کے اندر ہوگا۔ایران کے پاسداران انقلاب نے یہ بھی دھمکی دی کہ وہ اس آبی راستے سے گزرنے والی انٹرنیٹ فائبر آپٹک کیبلز کو اجازت ناموں کے نظام کے تحت لے آ سکتے ہیں۔
پاسداران نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے نفاذ کے بعد ایران اپنی علاقائی سمندری حدود کے سمندر کی تہہ اور زیرِ سطح پر مکمل خودمختاری کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اعلان کر سکتا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والی تمام فائبر آپٹک کیبلز اجازت ناموں کے تابع ہوں گی۔دوسری جانب امریکا نے تہران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے منگل کے روز ایرانی غیرملکی زرمبادلہ ایکسچینج ہاؤس ،مبینہ فرنٹ کمپنیوں پر پابندی عائدکردی جبکہ 19بحری جہاز بھی بلیک لسٹ کر دئیے ۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران میں قائم امین ایکسچینج پر پابندیاں عائد کیں، جو ابراہیمی اینڈ ایسوسی ایٹس پارٹنرشپ کمپنی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے ۔ محکمہ کے مطابق اس ادارے کا فرنٹ کمپنیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور ہانگ کانگ سمیت متعدد ممالک میں پھیلا ہوا ہے ۔امریکا نے مزید 19 بحری جہازوں کو بھی بلیک لسٹ کیا جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات غیر ملکی خریداروں تک پہنچانے میں ملوث تھے ۔امریکی پابندیوں کے تحت نامزد اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہو جائیں گے اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا جائے گا۔