اسرائیلی وزیر نے غزہ فلوٹیلا ارکان کی تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کر دی

اسرائیلی وزیر نے غزہ فلوٹیلا ارکان کی تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کر دی

ویڈیو میں کارکنوں کوہاتھ پیچھے باندھے ،ماتھے زمین پر،گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا اسرائیلی وزیر خارجہ کی قومی سلامتی وزیر پر تنقید،ملکی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام ایسا سلوک نا قابل قبول ،اٹلی، فرانس، کینیڈا، ہالینڈ سمیت متعدد ممالک کی مذمت

تل ابیب،میڈرڈ،غزہ (اے ایف پی)اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی وزیر ایتمار بن گویر نے بدھ کو غزہ فلوٹیلا کے ارکان کی تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کر دی، جس میں غزہ جانے والی ایک کشتی سے گرفتار کئے گئے کارکنوں کو ہاتھ پیچھے باندھے اور ماتھے زمین پر رکھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا ہے ۔ویڈیو بن گویر کے ایکس اکاؤنٹ پر شائع کی گئی ،انہوں نے کیپشن میں لکھا "اسرائیل میں خوش آمدید"۔ واقعے کے بعد اسرائیلی حکومت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ۔ وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے قومی سلامتی کے وزیر کی متنازع ویڈیو پر شدید تنقید کی ۔ گیڈون نے کہا کہ اس اقدام سے اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور سفارتی و عسکری کوششیں متاثر ہوئیں۔ انہوں نے بن گویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسرائیل کا چہرہ نہیں ہیں۔اس شرمناک عمل سے ریاست کو نقصان پہنچایا گیا ، فوج اور وزارت خارجہ کی محنت ضائع ہوئی۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے گرفتار کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک کو ناقابلِ قبول قرار دیا،انہوں نے کہا اس طرح کا سلوک انسانی وقار کی خلاف ورزی ہے ۔۔۔

آئرش وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی نے ویڈیو پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ حماس نے ویڈیو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے اسرائیلی قیادت کی اخلاقی پستی قرار دے دیا۔فرانس، کینیڈا، ہالینڈ اور خلیجی ریاستوں سمیت متعدد ممالک نے اسرائیلی وزیر کے اقدام کی شدید مذمت کی ،اٹلی سمیت کئی ممالک نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے سخت احتجاج کیا۔ادھر غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا سے 430 افراد کو حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے ۔اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو انتہائی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے ، انہوں نے تمام ڈویژن کمانڈرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسرائیلی دفاعی افواج اعلیٰ ترین سطح کے الرٹ پر ہیں اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اسرائیلی قانون سازوں نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بل کو ابتدائی مرحلے میں منظور کر لیا ۔ منظور شدہ بل اب پارلیمانی کمیٹی اور مزید تین مراحل سے گزرے گا۔ اس اقدام کے بعد ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اسرائیل میں اہم تبدیلی کا اشارہ ہے ، جس سے موجودہ حکومت کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ادھر اسرائیلی سپریم کورٹ نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والی 37 غیر ملکی این جی اوز پر حکومتی پابندی معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔استنبول میں اسرائیل اپنے قونصل خانے کو بند کرنے پر غور کر رہا ہے ، جو اس کے دنیا کے ابتدائی سفارتی دفاتر میں سے ایک ہے ۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ یہ معاملہ زیر غور ہے تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں