ایران مذاکرات میں اسرائیلی کردار محدود:نیتن یاہو کا اعتراف
اسرائیل کو ابتدائی معاہدے کیلئے مذاکرات سے بڑی حد تک باہر رکھا گیا ہے تحفظات کو نظر انداز کیا جا رہا،ٹرمپ کو متاثر کرنے کی کوئی عملی گنجائش نہیں معاہدہ کے فریم ورک پر تشویش :اسرائیلی وزیراعظم کی قریبی افراد سے گفتگو
یروشلم (رائٹرز)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قریبی افراد کے ساتھ نجی گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ ایران معاملے پر ٹرمپ کے فیصلوں پر اسرائیل کا اثر و رسوخ محدود ہے ۔ اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں اسرائیل کو بڑی حد تک شامل نہیں کیا گیا۔ نیتن یاہو کو اس بات پر تشویش ہے کہ امریکا اور ایران میں ابتدائی معاہدے کا فریم ورک تیزی سے سامنے آ رہا ہے ، جس میں اسرائیلی تحفظات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اس وقت نیتن یاہو کے پاس ٹرمپ کو متاثر کرنے کی کوئی عملی گنجائش نہیں۔نیتن یاہو نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ اسرائیل کو موجودہ مذاکراتی عمل میں موثر کردار حاصل نہیں۔دو اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر تین ماہ سے جاری جنگ کے دوران ممکنہ معاہدے پر ایران سے مذاکرات کر رہے ہیں۔اسرائیل کو ابتدائی معاہدے کیلئے مذاکرات سے بڑی حد تک باہر رکھا گیا ہے ، نیتن یاہو کی نجی گفتگو میں شامل اسرائیلی حکام میں سے ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم نے مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ نیتن یاہو نے تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل کے پاس امریکی صدر پر اثر انداز ہونے کا کوئی مو ثر راستہ نہیں، نیتن یاہو کے دفتر نے تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہ دیا۔