غزہ :اسرائیلی حملے ، 2بچوں سمیت 7افراد شہید،12زخمی
غزہ امن بورڈ کا ہزاروں فلسطینیوں کیلئے رفح میں انسانی زون بنانے کا منصوبہ بند علاقے عالمی انسانی قوانین سے متصادم ،امدادی اداروں کا تحفظات کا اظہار
یروشلم،جنین(اے ایف پی،رائٹرز) غزہ پٹی میں بدھ کو اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں دو بچوں سمیت کم از کم 7 افراد شہید اور 12 زخمی ہو گئے ۔ فلسطینی طبی حکام کے مطابق غزہ سٹی میں ایک سکول کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص شہید اور 12 افراد زخمی ہوئے ۔ خان یونس کے علاقے المواسی میں بے گھر افراد کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 10 سالہ بچے سمیت 4 افراد مارے گئے ۔ غزہ سٹی کے علاقے زیتون میں اسرائیلی فائرنگ سے 6 سالہ بچہ بھی شہید ہوا۔ادھر امریکی صدر ٹرمپ کے قائم کردہ "بورڈ آف پیس" نے جنوبی غزہ میں ایک آزمائشی انسانی زون قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ، جہاں ہزاروں فلسطینی شہریوں کو جگہ دینے کی تجویز ہے ۔ بورڈ کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ زون غزہ کا عبوری انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے لیے ابتدائی مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے ۔ مجوزہ زون رفح کے علاقے میں قائم کیا جائے گا جہاں بین الاقوامی استحکام فورس سکیورٹی فراہم کرے گی۔ تاہم سفارت کاروں اور امدادی اداروں نے ایسے بند انسانی علاقوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عالمی انسانی قوانین سے متصادم قرار دیا ہے ۔
فلسطینی صحافی مجاہد بنی مفلح نے رہائی کے بعد الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی جیلیں قیدیوں کے لیے "زندہ قبریں" بن چکی ہیں۔ 37 سالہ صحافی کو صحافتی سرگرمیوں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزام میں چھ ماہ قید رکھا گیا تھا۔ فلسطینی قیدیوں کے کلب کے مطابق رہائی کے دو روز بعد انہیں دماغ میں شدید خون بہنے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے کئی آپریشن ہوئے ۔ بنی مفلح نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے وقت ان پر تشدد کیا گیا۔