عالمی فنڈنگ کم ،10 لاکھ خواتین اور بچیاں امداد سے محروم

 عالمی فنڈنگ کم ،10 لاکھ خواتین اور بچیاں امداد سے محروم

65 فیصد خواتین تنظیموں کا عملہ بغیر تنخواہ کام کر رہا ،کئی نے سٹاف کم کیا:رپورٹ

جنیوا (رائٹرز،اے ایف پی)اقوام متحدہ کے ادارے برائے خواتین نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عالمی امدادی فنڈز میں کمی کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 10 لاکھ خواتین اور بچیاں زندگی بچانے والی امداد اور تحفظ کی سہولتوں سے محروم ہو چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ریکارڈ سطح پر امدادی فنڈنگ میں کمی کے بعد تقریباً 90 فیصد خواتین کی تنظیمیں بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں جبکہ سروے میں شامل 855میں سے 40فیصد تنظیموں کو آئندہ ایک سال میں عارضی یا مستقل بندش کا خطرہ لاحق ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 12 کروڑ خواتین اور بچیاں انسانی امداد اور تحفظ کی محتاج ہیں تاہم مالی وسائل کی کمی کے باعث 60 فیصد تنظیمیں پہلے کے مقابلے میں کم خواتین اور بچیوں تک پہنچ پا رہی ہیں۔یو این ویمن کی سربراہ برائے انسانی امدادی امور صوفیہ کالٹورپ نے کہا کہ خواتین  کی تنظیموں کیلئے کم کیا جانے والا ہر ڈالر دراصل جنسی تشدد کی متاثرہ خواتین، بے گھر ماؤں، تعلیم سے محروم بچیوں اور بقا کی جدوجہد کرنے والی برادریوں سے چھین لیا جاتا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 65 فیصد خواتین تنظیموں کا عملہ بغیر تنخواہ کام کر رہا ہے ، نصف تنظیمیں انتظار کی فہرستیں بنانے یا خواتین اور بچیوں کو واپس بھیجنے پر مجبور ہیں جبکہ تین چوتھائی سے زیادہ تنظیموں نے اپنے عملے میں کمی کر دی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں