بھارت میں ہر 4میں سے صرف 1 فٹ پاتھ قابل استعمال

بھارت میں ہر 4میں سے صرف 1 فٹ پاتھ قابل استعمال

شہریوں کو محفوظ فٹ پاتھوں پر چلنے کا بنیادی حق حاصل :بھارتی سپریم کورٹ

نئی دہلی (اے ایف پی)بھارت میں فٹ پاتھ تجاوزات، پارکنگ اور کچرا پھینکنے کی جگہ بن گئے ہیں، جس کے باعث پیدل چلنے والے شہری مصروف سڑکوں پر چلنے پر مجبور ہیں، اس صورتحال پر بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں قرار دیا ہے کہ شہریوں کو محفوظ فٹ پاتھوں پر چلنے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔عدالت کا یہ فیصلہ ایک پانچ سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا، جو سکول جاتے ہوئے ایک ٹینکر کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ متعلقہ سڑک پر نہ فٹ پاتھ موجود تھا اور نہ ہی پیدل چلنے والوں کیلئے کراسنگ۔سپریم کورٹ کی مقرر کردہ کمیٹی کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 84 فیصد فٹ پاتھ بنیادی انجینئرنگ معیار پر پورا نہیں اترتے جبکہ صرف ہر چار میں سے ایک فٹ پاتھ قابلِ استعمال ہے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال 30 ہزار سے زائد پیدل چلنے والے سڑک حادثات میں جان گنوا دیتے ہیں، جو دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سے ہونے والی اموات کا تقریباً 11 فیصد ہے ، حالانکہ دنیا کی صرف ایک فیصد گاڑیاں بھارت میں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کا فقدان ہے ۔ شہری حقوق کے کارکنوں کے مطابق فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر رسمی کاروبار کے مسئلے کو پولیس کارروائی کے بجائے بہتر شہری منصوبہ بندی اور مؤثر طرز حکمرانی کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں