یورپ میں شرح پیدائش تیزی سے گرنے لگی
مرنیوالوں کی سالانہ تعداد پیدا ہونیوالوں سے زیادہ ،تارکین وطن واحد آسرا 2050 تک یورپ کا ہر تیسرا شہری بوڑھا ہوگا،یورپی کمیشن کی تہلکہ خیز رپورٹ
برسلز (اے ایف پی )یورپی کمیشن نے اپنی تیسری ڈیموگرافک ٹرانسفارمیشن رپورٹ 2026 جاری کی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپی یونین کی آبادی اس وقت اپنے تاریخی عروج پر ہے ، لیکن جلد ہی اس میں بڑی کمی ہونے والی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی آبادی 2029 میں تقریباً 45.3 کروڑ پر پہنچے گی، جسکے بعد اس میں مستقل کمی کا رجحان شروع ہو جائے گا۔ تخمینے کے مطابق 2100 تک یورپی یونین کی آبادی کم ہو کر 39.88 کروڑ رہ جائیگی، جو موجودہ آبادی سے تقریباً 11.7فیصد کم ہے ۔ 1970 کی دہائی کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ یورپی یونین کی آبادی 40 کروڑ سے نیچے چلی جائیگی۔ یورپ میں شرحِ پیدائش تیزی سے گر رہی ہے ۔ مثال کے طور پریورپی یونین میں سالانہ پیدائش کی تعداد جو 1964 میں 68 لاکھ تھی، وہ 60 سال میں نصف ہوکر 2024 میں محض 35 لاکھ رہ گئی ہے ۔ 2012 سے یورپی یونین میں ہر سال مرنے والوں کی تعداد پیدا ہونے والوں سے زیادہ رہی ہے ۔ یورپی یونین کی موجودہ آبادی میں جو تھوڑا بہت اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، اسکی واحد وجہ تارکینِ وطن کی آمد ہے ، جس نے گرتی ہوئی ملکی آبادی کے خلا کو عارضی طور پر پورا کر رکھا ہے ۔ مثال کے طور پر یورپ میں ہونے والے حالیہ اضافے میں سے دو تہائی سے زیادہ حصہ صرف سپین میں آنے والے تارکینِ وطن کی بدولت تھا ۔ جرمنی 8.35 کروڑ آبادی کے ساتھ یورپی یونین کا سب سے بڑا ملک ہے ، اسکے بعد فرانس، اٹلی، سپین اور پولینڈ کا نمبر آتا ہے ۔ مالٹا صرف 6 لاکھ آبادی کے ساتھ یورپی یونین کا سب سے چھوٹا ملک ہے ۔یورپی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ آبادی کے بوڑھے ہونے اور سکڑنے سے کام کرنیوالی نوجوان آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔ 2050 تک یورپ کا ہر تیسرا شہری بوڑھا انسان ہوگا۔ اس گرتی ہوئی آبادی کا مطلب ہے کہ فیکٹریوں، دفاتر اور کھیتوں میں کام کرنے والے ہاتھ ختم ہو جائینگے ۔ ایک طرف نوجوان نہ ہونے سے بجٹ اور ہیلتھ کیئر سسٹم پر بھاری بوجھ پڑے گا، تو دوسری طرف یورپ کو مجبوراً تارکینِ وطن کے لیے اپنے دروازے کھولنے پڑیں گے ، جسے یورپی کمیشن نے اب انتہائی ناگزیر ضرورت قرار دے دیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments