آبنائےہرمز: ٹرمپ کا بڑا یوٹرن: بحری جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد ٹیکس کی دھمکی واپس، بدلے میں خلیجی ممالک امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرینگے : امریکی صدر
انتہائی محفوظ جوہری مرکز کوہ کلنگ کو تباہ کردینگے ،90فیصد امکان مجتبیٰ خامنہ ای زندہ نہیں،فیس واپس لینے کا فیصلہ خلیجی ممالک سے گفتگو کے بعد کیا :امریکی صدر، حملوں سے متعلق کانگریس کو باضابطہ آگاہ کردیا امریکا کے قشم،کیش ،بوشہر، چاہ بہار ، جسک، کونارک ، ابو موسیٰ ،بندر عباس پر حملے ،3 شہید، امریکی جہاز ،کویت،بحرین ، اردن میں فوجی اہداف، اماراتی ٹینکروں پر جوابی وار،1بھارتی ہلاک،تیل مزید مہنگا
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا یوٹرن لیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پرمجوزہ 20 فیصد ٹیکس کی دھمکی واپس لے لی اور کہاہے کہ اسکے بدلے میں خلیجی ممالک امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد نے فیصلہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد امریکی ری ایمبرسمنٹ فیس (معاوضہ)کی جگہ مختلف خلیجی ممالک مریکا میں سرمایہ کاری کریں گے ۔یہ سرمایہ کاریاں نا صرف غیرمعمولی حد تک بڑی ہوں گی بلکہ ان ممالک اور انکے مستقبل کیلئے بھی بے حد فائدہ مند ثابت ہوں گی، امریکا میں ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے ہی تاریخ میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ،تاہم یہ نئی سرمایہ کاریاں اس حجم کو مزید بڑھا دیں گی،اسکے نتیجے میں امریکا میں تاریخی پیمانے پر نئی فیکٹریاں، صنعتی پلانٹس اور جدید آلات نصب کیے جائیں گے ، جس سے لاکھوں نئی، اعلیٰ تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
انہوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے مکمل نفاذکے حوالے سے کہا یہ صرف ان جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوں، انکی جانب جا رہے ہوں، یا کسی بھی نوعیت کا ایرانی کارگو لے جا رہے ہوں۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا واشنگٹن ایران پر اپنے حملے جاری رکھے گا اور ایران میں واقع انتہائی محفوظ جوہری مرکز کوہ کلنگ گز لا(پِک ایکس ماؤنٹین ) کو نشانہ بنائے گا،انہوں نے خبردار کیا کہ ہم آج رات انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور کل بھی بھرپور حملے کریں گے ۔ اور وہ اس کیخلاف کچھ بھی نہیں کر سکیں گے ۔ ہم پِک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کر دیں گے ،ایرانیوں سے کہہ دیں کہ تیار رہیں،ہم پِک ایکس ماؤنٹین پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں،ہمیں وہاں کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی،ان کا جوہری پروگرام اچھی حالت میں نہیں ،جب بھی ہمیں اسکے بارے میں معلوم ہوتا ہے ، ہم اسے تباہ کر دیتے ہیں،اسی لیے وہ اس بارے بات کرنا پسند نہیں کرتے ،لیکن غالب امکان ہے کہ ہم جلد ہی پِک ایکس کو بھی نشانہ بنائیں گے ۔انہوں نے کہا انکے بہترین لیڈر مارے گئے ہیں اور 90 فیصد امکان ہے کہ ان کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای بھی زندہ نہیں ۔خیال رہے پِک ایکس ماؤنٹین ایران کے شدید متاثرہ نطنز یورینیم افزودگی مرکز کے قریب انتہائی مضبوط حفاظتی انتظامات والا مقام ہے ،یہاں زمین کی گہرائی میں قائم دو سرنگی کمپلیکس موجود ہیں، جنکے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ وہ امریکا کے ذخیرۂ اسلحہ میں موجود سب سے طاقتور بنکر شکن بموں کی پہنچ سے بھی باہر ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر کانگریس کو بھی مطلع کر دیا ہے کہ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون)نے ایران کے خلاف فضائی حملے دوبارہ شروع کر دئیے ہیں،کانگریس کو بھیجے گئے خط میں ٹرمپ نے بتایا کہ یہ حملے 7 جولائی سے شروع ہوئے ، یہ فوجی کارروائی امریکی شہریوں اور امریکا کے مفادات کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری کے مطابق کی جا رہی ہے ، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک۔ خط میں کہا گیا کہ حالیہ حملے محدود، متوازن، پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ، اور اس انداز میں انجام دئیے گئے کہ شہری ہلاکتوں کو کم سے کم رکھا جا سکے ۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے ، دو دن پہلے ہمارے پاس ایک معاہدہ تھا، لیکن پھر انہوں نے کہا کہ ہم یہ معاہدہ نہیں کر سکتے ، ہمیں اس پر مزید مذاکرات کرنے ہوں گے ۔دوسری جانب ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل اکرم نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھلے گی اور امریکا کو عالمی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے ۔ ادھر امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملے کئے جس سے کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے جواب میں ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 5 گھنٹے جاری رہنے والے حملوں میں ایران میں بوشہر، چاہ بہار ، جسک، کونارک ، ابو موسیٰ اور بندر عباس کو نشانہ بنایا گیا،جاری بیان کے مطابق یہ حملے ایرانی افواج پر بھاری قیمت عائد کرنے اور انکی اس صلاحیت کو کمزور بنانے کیلئے کئے جا رہے ہیں جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں شہریوں اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، بیان میں مزید کہا گیا کہ مکمل کئے گئے نئے حملوں میں ایران کے ساحلی دفاعی نظاموں، میزائل،ڈرون اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے جنوبی حصے میں واقع صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے امریکی حملے میں تین افراد شہید ہو گئے ،جن میں ماحولیاتی ماہر کے خاندان کے افراد شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے گزشتہ روز ایرانی جزیرہ کیش پر بھی بمباری کی ہے ۔رپورٹ کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے کیش بندرگاہ میں لنگر انداز کشتیوں کو نشانہ بنایا جبکہ پانی اور بجلی کی تنصیبات کے قریب بھی امریکی راکٹ گرے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے قشم جزیرے میں بھی دھماکے ہوئے ، قشم پاور پلانٹ کے علاقے پرحملے کے نتیجے میں بعض پیداواری یونٹس کی سرگرمیاں معطل کرنا پڑ سکتی ہیں۔ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ، کویت اور اردن میں فوجی اڈوں، اماراتی ٹینکروں اور امریکی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی بحریہ نے امریکی دشمن کے بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے ، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا۔اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اردنی فضائی حدود میں داخل ہوئے ، دفاعی نظام نے 4 میزائلوں کو ناکارہ بنایا، میزائل حملوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، مختلف مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے ، ملبہ ہٹانے کے لیے رائل انجینئرنگ کور تعینات کر دی گئی۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ بحرین میں تعینات امریکی ففتھ فلیٹ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے ، حملے میں فوجی اڈے پر موجود ایندھن کے ذخائر کو آگ لگ گئی۔یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی ریڈار سسٹمز بشمول پیٹریاٹ سسٹم اور کنٹرول سنٹر کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ ایرانی فوج نے کویت میں بھی امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ،ایرانی میڈیا کے مطابق کویت میں دھماکوں کی آواز سُنی گئی، جس کے بعد خطرے کے سائرن بجنے لگے ۔کویتی فوج کا کہنا ہے کہ دشمن کے فضائی حملوں کو ناکام بنا رہے ہیں،کویت کی فضائی حدود میں دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والے دو ٹینکرز کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا، ان ٹینکرز نے وارننگ کو نظر انداز کیا، نیویگیشن سسٹمز بند کر کے بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے آبنائے ہرمز میں جارح دشمن کے ساتھ تعاون آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کا باعث بنے گا اور عالمی توانائی بحران پیدا کرے گا۔متحدہ عرب امارات نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے۔
اماراتی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ دو آئل ٹینکر مومباسا اور باہیا آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں ایران کے دو کروز میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں۔ حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک بھارتی رکن ہلاک ہو گیا جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے ، زخمی ہونے والے چھ افراد کا تعلق انڈیا اور دو کا یوکرین سے ہے ۔بھارت نے واقعہ کیخلاف ایران کے نائب سفیر جواد حسینی کو دفترِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور وضاحت مانگی۔امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل تیسرے روز جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ، بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق منگل کو کاروباری سرگرمیوں کے دوران ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کے اگست میں ترسیل کیلئے سودے 1.98 ڈالر اضافے سے 80.12 ڈالر فی بیرل میں طے پائے جبکہ برینٹ کروڈ کے ستمبر میں ترسیل کے معاہدے 2.65 ڈالر اضافے سے 85.95 ڈالر فی بیرل میں ہوئے ۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان رہا اور سونے کی قیمت 20.40 ڈالر اضافے سے 4026.10 ڈالر فی اونس اور چاندی کی قیمت 0.37 ڈالر کے عمومی اضافے سے 58.35 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران مکئی اور گندم کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی اور مکئی کے دسمبر میں ترسیل کے معاہدے 5.50 ڈالر کمی سے 457.75 ڈالر فی بشل اور گندم کے ستمبر میں ترسیل کیلئے معاہدے 2.25 ڈالر کمی سے 633 ڈالر فی بشل میں طے پائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments