برطانیہ سمیت 12ممالک نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت بند کر دی

برطانیہ سمیت 12ممالک نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت بند کر دی

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر پراسرائیل کی آنکھیں بند ،آبادکاروں کے حملوں کو نظرانداز کیا:برطانوی وزیر خارجہ کا پارلیمان میں خطاب اسرائیل کاجوابی اقدام ،یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم ، حکومتی ارکان پارلیمنٹ سمیت12 برطانوی شہریوں کے داخلے پر پابندی

لندن،یروشلم،دبئی(اے ایف پی)برطانیہ سمیت 12 ممالک نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت بند کردی ،برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت 12ممالک نے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیل پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر پر آنکھیں بند کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ان ممالک نے یہ اقدام مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی اطلاعات کے بعد کیا ہے ۔ایڈ ملی بینڈ نے برطانوی پارلیمان میں کہا کہ حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی جا رہی ہے ۔ ان کے بقول اسرائیلی حکومت نے نہ صرف ان واقعات کو نظرانداز کیا بلکہ اس کے بعض ارکان نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت بھی کی۔برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے یورپ کے نو دیگر ممالک کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنے یا ایسی پابندیوں کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،ان ممالک میں ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے ، پولینڈ، پرتگال، سپین اور سویڈن شامل ہیں۔آئرلینڈ اور سپین پہلے ہی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کے خلاف اقدامات کرچکے ہیں، جبکہ فرانس کئی ہفتوں سے یورپی یونین سے بھی ایسا ہی فیصلہ کرنے پر زور دے رہا ہے ۔

یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے ، تاہم بعض رکن ممالک کی مخالفت کے باعث فرانس کو کامیابی نہیں مل سکی۔12 ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات دو ریاستی حل کے امکان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے برطانیہ کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کردیا۔ اسرائیلی حکومت نے یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا اور 12 برطانوی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کردی، جن میں حکمران لیبر پارٹی کے ارکان پارلیمان بھی شامل ہیں۔اسرائیل نے مزید کہا کہ وہ غزہ میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے منصوبے کی نگرانی کرنے والے مرکز سے برطانوی سفارتکاروں کو نکال دے گا اور فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کی برطانوی تربیت بھی روک دے گا۔اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے برطانوی وزیر خارجہ کے الزامات کو اشتعال انگیز جھوٹ قرار دیا۔اسرائیلی بستیوں سے برآمد ہونے والی اہم مصنوعات میں کھجوریں، انگور، ایواکاڈو، ترش پھل، سبزیاں اور خوشبودار جڑی بوٹیاں شامل ہیں۔ ان بستیوں سے شراب، بحیرۂ مردار سے متعلق کاسمیٹکس اور مختلف صنعتی مصنوعات بھی برآمد کی جاتی ہیں۔برطانوی حکومت کے مطابق 2025 میں برطانیہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ تھا۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں پر برطانوی تجارتی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے فیصلے کو تاریخ کے غلط رخ پر جانے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ ہرزوگ نے کہا کہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں، مذاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے فرانس اور برطانیہ سمیت 12 ممالک کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے تجارتی اشیا پر پابندیوں کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے ۔ ادھر اسرائیلی عدالت نے منگل کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مغربی کنارے میں نئی یہودی بستی کی تعمیر روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بستی کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کے عمل کو روکنے کی استدعا منظور نہیں کی جا سکتی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف تھا کہ مجوزہ بستی مستقبل میں فلسطینی ریاست کے علاقوں کے باہمی زمینی رابطے کو ختم کر دے گی۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی وزارت تعمیرات و ہاؤسنگ نے مشرقی یروشلم کے قریب ایک ہزار 200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے سے تقریباً 10 روز قبل متحدہ عرب امارات کے صدر نے ذاتی طور پر اسرائیلی وزیر اعظم کو خبردار کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ اخبار نے کہا کہ نیتن یاہو نے ملکی سکیورٹی حکام کو اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی اور اس اہم معلومات پر کوئی کارروائی نہیں کی۔اسرائیلی اخبار کی اس رپورٹ میں صحافی شلومی ایلڈر اور روتھ یووال کی نئی کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے جو دنیا بھر کے اعلیٰ حکام سمیت درجنوں ذرائع کے انٹرویوز پر مبنی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آخر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی تھی، جس کے مندرجات سے تین اعلیٰ غیر ملکی حکام کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے اماراتی صدر کے ایک فلسطینی مشیر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو غزہ سے متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے تھے اور اس گفتگو کے بارے میں براہ راست علم رکھتے تھے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اماراتی صدر محمد بن زاید نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس کے رہنما یحیی سنوار اسرائیل کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں خونریزی ہو سکتی ہے ، خطے کا امن متاثر ہو سکتا ہے اور اسرائیل و عرب ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدات ابراہیمی کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 45 منٹ کی اس کال پر نیتن یاہو کے حد سے زیادہ پرسکون ردعمل نے اماراتی صدر کو حیران کر دیا، اسرائیلی وزیر اعظم نے انہیں جواب دیا کہ اسرائیل غزہ کی صورتحال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے ، حماس کی کوئی بھی ممکنہ کارروائی مغربی کنارے میں ہو سکتی ہے اور یہ کہ اسرائیل ہر قسم کے منظر نامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ۔ہارٹز کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ محمد بن زاید کو حماس کے اس ممکنہ خطرے کا علم خود یحیی سنوار کی جانب سے ہوا تھا جو 2023 کے وسط میں اسرائیل کے ساتھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے پر خوش نہیں تھے ۔

نیتن یاہو کے دفتر نے بائیں بازو کے رجحان رکھنے والے اخبار کی رپورٹ کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ نیتن یاہو نے اس وقت اماراتی صدر سے کوئی بات نہیں کی تھی۔سابق فوجی کمانڈر گادی آئزن نے ایکس پر لکھا نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حوالے سے درجنوں مرتبہ خبردار کیا گیا اور انہوں نے تمام انتباہات نظرانداز کیے ۔ وہ اس عہدے کے اہل نہیں ہیں،فوری طور پر استعفیٰ دیں ۔سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی کہا کہ 7 اکتوبر کو ہونے والی ہلاکتوں کی براہ راست ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے ،فوری مستعفی ہوں ۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی میڈیا کی اس رپورٹ پر تبصرے سے انکار کیا ہے ۔بیان میں کہا کہ حکومت میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔ تمام ضروری انٹیلی جنس معلومات ماضی میں بھی شیئر کی گئی ہیں اور یہ عمل بدستور جاری ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...