سعودی عرب کے یمنی حوثی باغیوں پر 58جوابی فضائی حملے
سعودی پائپ لائن بندش سے عالمی تیل سپلائی میں 4 فیصد کمی کا خطرہ
تہران،مسقط ،صنعا(نیوز ایجنسیاں) یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے ٹھکانوں پر 58 فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع کے مطابق جوابی حملے مختلف علاقوں میں کیے گئے ۔ حوثی میڈیا نے شمالی صوبے صعدہ میں دو سعودی حملوں اور سرحدی ضلع منبہ میں توپخانے کی گولہ باری کی بھی اطلاع دی ہے ۔ شمالی صوبہ الجوف میں ایک بازار پر بھی حملوں کا دعویٰ کیا گیا۔تاہم ریاض کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی۔ سعودی عرب میں اہم تیل پائپ لائن کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ پائپ لائن میں تعطل کے باعث دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کے تقریباً چار فیصد حصے کے متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ ماہرین کے مطابق طویل بندش کی صورت میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے ۔عمان نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور خلیجی ممالک کا پیر کو صلالہ میں ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا۔ عمانی میڈیا کے مطابق اجلاس ملتوی کرنے کا مقصد تعمیری مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے ۔بحرین نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ ٹرمپ سے آئرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمان میں ہونے والے مجوزہ اجلاس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی پروا نہیں، یہ ان کا معاملہ ہے ۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے ، جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔ قشم کاؤنٹی کے گورنر حسین امیر تیموری نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 4 زخمی ہو گئے ہیں۔تیموری نے کہا کہ اتوار کی صبح پانچ بجے جزیرہ ہنگام اور قشم کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔یمن کے حوثی جنگجوؤں نے جنوبی سعودی عرب میں فوجی اڈے پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ جنوبی علاقے شرورہ کے فوجی اڈے پر موجود اسلحہ ڈپو اور کمانڈ و کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔ادھر یمنی فوج کے مطابق تعز کے علاقے میں حوثیوں کے ٹھکانوں اور بیرکوں پر 3 فضائی حملے کیے گئے ، جبکہ موچا کے قریب بھی کارروائی کی گئی۔یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے ۔یمن میں شدید لڑائی کے باعث تقریباً 86 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق یمن میں لڑائی سے فرار ہونے والے دو ہزار سے زائد افراد جبوتی پہنچ گئے ہیں۔سعودی عرب کے سول ڈیفنس ادارے نے یمن سے ملحق دو علاقوں میں ممکنہ حملوں کے پیش نظر شہریوں کو الرٹ جاری کردیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد انتباہ واپس لے لیا گیا۔ الرٹ جنوبی شہر ابہا اور خمیس مشیط کے گردونواح کیلئے جاری کیا گیا تھا۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔برکس اجلاس سے خطاب میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا خلیجی ممالک اپنی سرزمین پر کسی بھی بہانے سے حملے برداشت نہیں کریں گے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران اور یو اے ای ماضی کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد کے ساتھ برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر تعمیری بات چیت ہوئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک تعلقات کا نیا باب شروع کریں گے ،مشترکہ طور پر آگے بڑھیں گے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرط یہ ہے کہ امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے اپنے وعدوں پر واپس آئے ۔ عباس عراقچی نے ترکیہ اور عراق کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ،
جن میں علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں تنازعات کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی اس اہم آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ اپنے کسی بحری جہاز کو 100 کلومیٹر کے اندر لا کر دکھائیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز فوری طور پر دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں داخلے اور اخراج کے لیے نئے بحری راستوں پر اتفاق کیا ہے ۔ روسی میڈیا کے مطابق ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو 7 شرائط پیش کی ہیں تاہم ان شرائط کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث تجارتی روابط متاثر ہونے کے باوجود دبئی کی پرانی منڈیوں میں ایرانی اشیا کی آمد جاری ہے ۔ زعفران، زیرہ، پستہ، بادام اور دیگر روایتی غذائی اجناس اب بھی دکانوں پر دستیاب ہیں۔ عراق نے ایران سے ملحقہ تین سرحدی گزرگاہیں مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا۔شلمجہ اور الشیب گزرگاہیں اتوار کو مسافروں کے لیے کھول دی گئیں، تاہم تجارتی سرگرمیاں بدستور معطل ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments