ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ایرانی تجویزمسترد کردی
ٹرمپ کو ایران سے امریکی مطالبات پورے کرنے پر شکوک:وال اسٹریٹ جرنل امریکا مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا کر خطے کے وسائل پر قبضہ چاہتاہے :ایرانی صدر حوثیوں کا میزائل حملہ ناکام بنا دیا، دو ڈرون بھی مار گرائے گئے :سعودی عرب
واشنگٹن،تہران،ریاض(نیوز ایجنسیاں)امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کردی۔ ایران نے پیشکش کی تھی کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں معطل اور لبنان کو شامل کرتے ہوئے جنگ بندی پر عمل کرے تو تہران سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے اور اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنے کیلئے تیار ہے ۔ٹرمپ نے ہفتے کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی پیشکش مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے امریکی مطالبات پورے کیے جانے پر شکوک ہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا نیا منصوبہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے ۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا تجویز قبول کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو ایران بھی اپنے وعدے پورے کرے گا۔
ایرانی صدر کے مطابق 6 رکنی ٹیم مذاکرات کر رہی ہے ، جس میں فوج، پارلیمنٹ اور حکومت کے نمائندے شامل ہیں اور اسے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے ،ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اب تک رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے دو بار ملاقات کر چکے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد گزشتہ سات ماہ کے دوران وہ دو مرتبہ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کر چکے ہیں۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ میں نے رہبر اعلیٰ کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے ہیں اور اس دوران ان میں کسی قسم کی جسمانی کمزوری یا تکلیف کے آثار نہیں دیکھے ۔عرب ٹی وی کو انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کا منصوبہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا کر خطے کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے ، آبنائے ہرمز بند ہونے کا ذمہ دار امریکا ہے ۔ جب ایران کے راستے بند کیے جائیں گے تو آبنائے ہرمز بند کرنا فطری عمل ہے ، آبنائے ہرمز تنازع کا حل طاقت سے نہیں بات چیت سے ہی ممکن ہے ۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز قبول بھی کرلے تو تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی لچک نہیں دکھائے گا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا ایران کی تمام شرائط پوری نہیں کردیتا۔ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک کے مطابق اپنی عسکری صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی تیاری کی استعداد کو مکمل طور پر آشکار ہونے سے بچانے کے لیے اپنی بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین ڈھانچے میں منتقل کر دیا ہے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے امریکا کو 7 روزہ منصوبہ پہنچادیا ہے ، اسے قبول کرلیا جائے تو آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایران نے قطر کے ذریعے امریکا کو 7 روزہ منصوبہ پہنچا دیا ہے ، ضروری شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول کربحری آمدورفت بحال کی جاسکتی ہے ،فوجی کارروائیوں، دھمکیوں، ناکہ بندی یا معاشی دباؤ کے ذریعے بحری سکیورٹی بحال نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ ایران دباؤ، دھمکی یا خوف زدہ کرنے کی کوشش قبول نہیں کرے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات ہوئی۔ عباس عراقچی اور فیصل بن فرحان نے باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترک ہم منصب حاقان فیدان اور عمانی ہم منصب البوسیدی سے بھی ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب کے فوجی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ہفتے کی صبح دعویٰ کیا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ میزائل جنوب مغربی سعودی شہر خمیس مشیط کی جانب فائر کیا گیا تھا، جہاں سعودی فضائیہ کا ایک اہم فوجی اڈا بھی واقع ہے ۔سعودی حکام کے مطابق حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے ہفتے کو دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کی جانب آنے والے دو ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments