حوثیوں کے ریاض، خمیس مشیط پر داغے بیلسٹک میزائل تباہ، ایران کی ثالثی کیلئے پیشکش

حوثیوں کے ریاض، خمیس مشیط پر داغے بیلسٹک میزائل تباہ، ایران کی ثالثی کیلئے پیشکش

ریاض ائیرپورٹ پر اتوار کو حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے ،یہ ہماری صلاحیتوں کا امتحان ، جواب دیا جائیگا:سعودی عرب تہران سعودی عرب میں ہونے والی پیش رفت پر فکرمند ہے ،فریقین میں بات چیت آگے بڑھانے کیلئے کردار اداکرنے کوتیارہیں:ایرانی وزارت خارجہ

ریاض،تہران ،صنعا ( نیوز ایجنسیاں )سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور اہم شہرخمیس مشیط پر حوثیوں کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کردئیے گئے ۔ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی۔سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے پیر کو کہا کہ جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب آنے والے حوثیوں کے ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اس شہر میں ایک بڑا فوجی اڈہ واقع ہے ۔ علاوہ ازیں سعودی فوجی اتحاد نے پیر کو ریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بیان میں کہا کہ حوثی گروپ کی جانب سے داغے گئے میزائل کو روک کر تباہ کردیا گیا۔ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتوار کو ہونے والے حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں جاں بحق ہونے والا شخص سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تھا۔ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ہوا ہے ۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران سعودی عرب میں ہونے والی پیش رفت پر فکرمند ہے ۔ترجمان نے کہا کہ ایران تنازع کے فریقین کے درمیان بات چیت آگے بڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔یمنی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعدسعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش میں 17 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔

حملوں کے باعث سعودی عرب میں فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے اور متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں ۔ ہفتے کو ہوائی اڈے کے روانگی ٹرمینل پر میزائل حملے میں 13 افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کے بعد سعودی عرب کے فضائی دفاع اور اہم تنصیبات کی سلامتی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔ دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کے سربراہوں کے نام عالمی توانائی کانفرنس کے پروگرام سے خارج کر دئیے گئے ہیں، تاہم سعودی حکام نے سکیورٹی خدشات کے باوجود یہ کانفرنس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ایکسون موبل، ٹوٹل انرجیز، شیل، شیورون اور بی پی کے سربراہوں کو اس میں شرکت اور خطاب کرنا تھا، لیکن پیر کی صبح منتظمین کی جانب سے جاری کردہ تازہ پروگرام میں ان کے نام شامل نہیں تھے ۔ یہ کانگریس اتوار سے ریاض میں جاری ہے اور اس میں عالمی توانائی پالیسی اور صنعت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے.

ریاض میں توانائی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ توانائی کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں کے واقعات انتہائی سنگین ہیں اور ان کے جواب میں سعودی عرب کا ردعمل بھی اتنا ہی سخت اور سنجیدہ ہو گا۔ حالیہ حملوں نے ملک کی صلاحیتوں اور استقامت کا امتحان لیا ہے ۔رائٹرز کے مطابق ریاض پر حملے سعودی عرب کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور سیاحت کا مرکز بننے کی کوششوں کے لیے بھی دھچکا ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی تنصیبات پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بڑھتی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یمن کے حوثی رہنما محمد البخیتی نے کہا ہے کہ اگر امریکا یمن کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہوا تو اس کے مفادات کو خطے میں نشانہ بنایا جائے گا۔یمن کے شہر تعز میں حوثی جنگجوؤں نے محاصرہ مزید سخت کردیا، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ۔ فوجی ذرائع کے مطابق حکومتی فورسز کے 22 اہلکار مارے گئے ، جبکہ حوثی ذرائع نے اپنے کم از کم 40 جنگجوؤں کے جاں بحق کی تصدیق کی ہے ۔یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن فجر الیمن کے تحت حوثی ملیشیا کے ایک ہزار 732 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 900 سے زائد حوثی جاں بحق ہوئے ۔حوثی ملیشیا کی تقریباً 300 فوجی گاڑیوں اور آلات کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یمنی فضائیہ نے مآرب کے جنوب مغربی محاذوں پر حوثی ملیشیا کی بیرکوں اور گوداموں کو بھی نشانہ بنایا۔سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے مہلک حملوں کے بعد امریکی سرکاری ملازمین کیلئے مملکت کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے قبل سفارتخانے کی خصوصی اجازت لازمی قرار دے دی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...