بھارت : ہزاروں افراد کا مارچ، چیف الیکشن کمشنرسے استعفے کا مطالبہ
نئی دہلی میں میٹرو سٹیشن بند،ٹریفک کی نقل و حرکت محدود،عوام کو مشکلات چیف جسٹس سوریانے راہول گاندھی کی ملاقات کی درخواست مسترد کر دی
نئی دہلی(اے ایف پی)بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مارچ کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کردیا،مظاہرین نے بڑے بڑے بھارتی پرچم لہراتے اور ‘‘ووٹ چور’’ کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کے حامیوں نے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے ووٹ چور کے نعرے لگائے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے وزیراعظم مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ،مظاہرین میں شامل 21 سالہ انجلی نے کہا کہ یہ احتجاج اب تک کی تمام سرگرمیوں سے بڑا ہے۔
سپریم کورٹ جانے والی سڑک پر ڈھول، سیٹیوں اور نعروں کے شور میں بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ یہ ملک کی بنیاد اور اس کی اصل شناخت بچانے کی لڑائی ہے ۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ آواز بلند کرے اور کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رکھے ۔مظاہرین کا یہ بڑا اجتماع ہفتے اور اتوار کی صورتحال کے بالکل برعکس تھا، جب حکام نے بڑے مظاہرے کو روکنے کے لیے صحافیوں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا تھا اور دارالحکومت کے بیشتر حصوں میں عملاً لاک ڈاؤن جیسی پابندیاں نافذ کردی تھیں۔پیر کو پولیس زیادہ تر خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ مظاہرین پرچم اور بینرز لہراتے ہوئے وسطی دہلی کی سڑکوں پر ایک رنگا رنگ جلوس کی صورت میں آگے بڑھتے رہے۔
مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس چیف جسٹس کے نام ایک یادداشت پیش کرنا چاہتی ہے ، جس میں اس کے بقول ‘‘ووٹ چوری’’ روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کانگریس ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سوریا کانت نے ای میل کے ذریعے راہول گاندھی کی ملاقات کی درخواست مسترد کر دی۔ پیر کو حکام نے نئی دہلی میں چھ میٹرو سٹیشن بند کر دئیے جبکہ پولیس نے 20 سے زائد سڑکوں اور راستوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت محدود کر دی ، جس کے سبب عوام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اپوزیشن جماعتیں اور نوجوانوں کی ‘‘کاکروچ’’ تحریک کے حامی رواں ماہ روزانہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments