صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں:شہباز شریف

صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں:شہباز شریف

فیس لیس ٹیکسیشن کے تحت پیداواری شعبوں میں نگرانی کانظام 31 دسمبرتک مکمل فعال کیاجائے ،3 سال میں 1.3 کھرب اضافی ٹیکس وصول :وزیراعظم کورپورٹ پیش 2سال کے دوران ایس ایم ای قرضے 2.2کھرب تک بڑھائے جائیں، نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت ،فن ٹیک شعبوں میں مہارت فراہم کرنیکاسفر جاری رہے گا:اجلاس سے خطاب

اسلام آباد(نامہ نگار ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلز ٹیکس کی وصولی اور چوری کی روک تھام کے لیے تمام پیداواری شعبوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم رواں سال 31 دسمبر تک مکمل فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیس لیس ٹیکسیشن نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداوار کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے جبکہ خودکار نگرانی کے نظام کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔صارفین سے ٹیکس وصول کرکے اسے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ حکومت ملکی ٹیکس استعداد کے مکمل حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اسلام آباد میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف  بی آر) کی اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے پیداواری شعبے میں ٹیکس نگرانی کے نظام پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق انہوں نے ان کاروباری اداروں کو سراہا جو رضاکارانہ طور پر پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم نصب کر رہے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں مانیٹرنگ سسٹم مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے جبکہ ٹیکسٹائل، پیکیجڈ پانی، جوس اور دودھ کے شعبوں میں تنصیب کا عمل جاری ہے اور ان کے لیے ضروری آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے ۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک جبکہ چائے ، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے ، کاغذ و بورڈ اور آئل و گھی کے شعبوں کے لیے خریداری 30 اکتوبر تک مکمل کر لی جائے گی۔ ان تمام شعبوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم 31 دسمبر تک مکمل فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔

وزیراعظم کو بتایا گیا ٹیکسٹائل کے شعبے میں بعض صنعتوں کی جانب سے مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب پر مزاحمت سامنے آئی ہے ، تاہم نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، جے کے سپننگ ملز، صورتی انٹرپرائزز، انٹرلوپ لمیٹڈ، فیصل سپننگ ملز، ابراہیم فائبرز لمیٹڈ، سفائر ٹیکسٹائلز لمیٹڈ اور نشاط چونیاں نے رضاکارانہ طور پر نظام نصب کیا ہے ۔ وزیراعظم نے ان کمپنیوں کے تعاون کو سراہا۔ وزیراعظم نے سیمنٹ کے شعبے میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی آڈٹ رپورٹ کو سراہتے ہوئے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ دیگر شعبوں میں بھی اس نظام کا آڈٹ کیا جائے تاکہ اس کی افادیت اور مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے ۔ اجلاس میں ملک کی ٹیکس استعداد اور حقیقی ٹیکس وصولی کے درمیان فرق سے متعلق جامع رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کے نتیجے میں گزشتہ تین سال کے دوران 1.3 ٹریلین روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا، جو ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافے کے برابر ہے ۔ وزیراعظم نے ایف بی آر ٹرانسفارمیشن ٹیم کی جانب سے ملکی ٹیکس استعداد کا جامع جائزہ تیار کرنے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے امکانات کی نشاندہی کرنے پر اس کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے رپورٹ مرتب کرنے والے متعلقہ حکام کو اجلاس کے اختتام پر شیلڈز بھی پیش کیں۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ اور شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)کے لیے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028 تک 1.1 کھرب سے بڑھا کر 2.2 کھرب روپے کرنے کی ہدایت کی ہے ۔و زیراعظم نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، ایس ایم ایز میں معیشت کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے ، نوجوانوں کو آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور فن ٹیک کے شعبوں میں جدید مہارتیں فراہم کرنے کا سفر جاری رکھا جائے گا۔سمیڈا سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خواہشمند کاروباری افراد کو قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے جبکہ مختلف شعبوں میں کاروبار کے قیام سے متعلق فیزیبلٹی سٹڈیز ماہرین سے تیار کروا کر مقامی زبانوں میں بھی دستیاب کی جائیں۔

انہوں نے پسماندہ علاقوں میں کاروباری مواقع بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کم ہوگی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سمیڈا کو مرکزی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، ملک بھر میں دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں اور مقامی زبانوں میں رہنمائی کے لیے اے آئی پر مبنی ہیلپ لائن قائم کی جا رہی ہے ۔ علی بابا اور سمیڈا کے درمیان مفاہمت کے تحت دو سال میں 10 ہزار ایس ایم ایز کو تربیت دی جائے گی۔دانش آئی ٹی پارک کے جائزہ اجلاس میں وزیراعظم نے منصوبے کو اکیڈ میا اور صنعت کے مؤثر اشتراک سے عالمی معیار کے جدید آئی ٹی ایکو سسٹم کا مرکز بنانے ، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شراکت سے آپریشنز شروع کرنے اور منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت 50 نجی عمارتوں کو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس میں اپ گریڈ کیا جاچکا، 8 انکیوبیشن سینٹرز قائم اور آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے 105 ورکنگ اسپیسز فعال ہیں۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...