صوبے میں تعلیم، صحت اور معیار زندگی پر توجہ دی جائیگی :ایپکس کمیٹی ، 24 گھنٹے میں صورتحال کو کنٹرول کر لیا : محسن نقوی ، آج قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس :خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ پہلی ترجیح:گورنر

صوبے میں تعلیم، صحت اور معیار زندگی پر توجہ دی جائیگی :ایپکس کمیٹی ، 24 گھنٹے میں صورتحال کو کنٹرول کر لیا : محسن نقوی ، آج قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس :خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ پہلی ترجیح:گورنر

سکیورٹی فورسز کو وسائل دینگے ، ہماری پالیسیاں اسلام آباد سے آ ئینگی ، قندھار،جلال آباد سے نہیں ،13 سال کا گند صاف کرنا ہے ،پی ٹی آئی کا کنٹینر لاوارث کھڑا ،کوئی لے جائے ،فیصل کریم کنڈی دہشتگردی کا خاتمہ،پائیدار امن کا قیام تمام ریاستی اداروں کا مشترکہ مقصد :ایپکس کمیٹی ، پہلے مرحلے میں 6 ماہ کے دوران 5 اضلاع میں پولیس ،اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا :وزیر داخلہ وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے لئے اسحاق ڈار کی سربراہی میں 11رکنی نگران کمیٹی بنا دی ،کے پی کے پولیس کو10 بکتر بند گاڑیاں فراہم ،اتحادی جماعتوں کو صورتحال پر اعتماد میں لینے کا فیصلہ

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، ایڈوائزری کونسل کے اراکین، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں تعلیم، صحت اور معیار زندگی پر توجہ دی جائیگی محسن نقوی نے کہا  کہ ہم نے 24 گھنٹے میں صورتحال کو کنٹرول کر لیا جبکہ گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے ،ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید آلات، بکتر بند گاڑیاں، مو ثر اسلحہ اور مطلوبہ نفری فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اجلاس کے آغاز میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی،اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

فورم نے تمام متعلقہ اداروں کو دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مربوط، مو ثر اور فیصلہ کن اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ، فورم نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام تمام ریاستی اداروں کا مشترکہ مقصد اور اولین ترجیح ہے ، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ تعلیم، صحت اور شہریوں کے معیار زندگی سے متعلق امور کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان شعبوں میں بہتری عوامی سکیورٹی اور پائیدار امن کے لیے بھی ضروری ہے ،فورم نے صوبے کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، سماجی و اقتصادی ترقی کے فروغ اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے خصوصی اقدامات پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا،اس سلسلے میں عوامی تجاویز، ضروریات اور مقامی ترجیحات کو پالیسی سازی اور عملی اقدامات کا حصہ بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ فورم نے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام جاری رکھنے کی ہدایت کی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں پہلی بار ایک پیج پر ہیں،محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی قیادت صوبائی حکومت کو کرنا ہوگی، یہ جنگ صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے جیتی جا سکتی ہے.۔

،سابق صوبائی حکومت نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کی قیادت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں یہی سکیورٹی فورسز بہتر نتائج دے سکتی ہیں، فرق صرف حکومتی قیادت کا ہوگا،مزید کہا کہ مشکل وقت آسکتا ہے ، تاہم سب کو مل کر حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا،وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، پولیس اور سکیورٹی فورسز مل کر کام کریں گی،مشیروں اور حکومتی عہدیداروں کو گھبرانے کے بجائے متحد ہو کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے ، ایک دن میں حالات تبدیل نہیں ہوں گے ، بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کرنا ہوں گے ۔ انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے 5 اضلاع پر مشتمل منصوبے پر دوبارہ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں 6 ماہ کے دوران 5 اضلاع میں پولیس اور دیگر اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا، انہوں نے مشاورتی کونسل کے ارکان سمیت تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہیں اور جرات کا مظاہرہ کریں، ہم درست راستے پر گامزن ہیں اور کامیاب ہوں گے ، خیبر پختونخوا کے عوام نے امن کے لیے اپنے عزم کا مظاہرہ کیا ہے ،ہم نے 24 گھنٹے میں صورتحال کو کنٹرول کر لیا ،صوبے کے کسی بھی حصے سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں اور انہیں لانگ مارچ اور احتجاج کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنایا جائے گا اور خیبر پختونخوا کے عوام جلد ہی اس لعنت کے خلاف واضح اور نمایاں اقدامات دیکھیں گے ،صوبے سے دہشتگردی کا خاتمہ ہماری ترجیح ہے ، گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ان کا موثر اور شفاف استعمال روزگار کے مواقع پیدا کرنے ، سرمایہ کار کو راغب کرنے اور صوبے میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ، دریں اثنا گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی تصدیق کردی ، کوئی بڑا چھوٹا نہیں، جس نے کبھی کرپشن کی ہے اس کے خلاف کارروائی ہوگی، اُنہوں نے کہا کہ ‘اب وفاق کے ساتھ گالم گلوچ کی سیاست نہیں ہوگی بلکہ دلیل اور مو ثر مکالمے کے ذریعے صوبے کا مقدمہ پیش کیا جائے گا۔

، ہماری پالیسی کابل، قندھار یا جلال آباد سے نہیں بلکہ اسلام آباد سے طے ہو گی،سہیل آفریدی کا سٹیٹس آف لائن ہے اور وہ حفاظتی تحویل میں ہیں، جن افراد کے خلاف کوئی مقدمات نہیں ہوں گے انہیں رہا کر دیا جائے گا، ورنہ قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، اندھیرا ختم ہو چکا ہے اور اب ہمارا سفر روشنی کی جانب گامزن ہے ۔ جنگیں صرف فوجیں نہیں بلکہ قومیں مل کر لڑتی ہیں، پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی،مزید کہا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کو درکار وسائل کی فراہمی کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا، صوبے میں انٹرنیٹ بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ ایک یا دو روز میں بند راستے بھی کھول دیے جائیں گے ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے ، میں انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی آ کر اسے لے جائے ،اُنھوں نے مزید کہا کہ صدر کا اقدام ایک سرجری کی مانند تھا کیونکہ جب اینٹی بائیوٹک سے مسئلہ حل نہ ہو تو پھر سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے ۔ صوبے میں 13 سال کے دوران پیدا ہونے والی خرابیوں کو درست کرنے میں وقت لگے گا، تاہم تین ماہ میں اقدامات کے نتائج اور فرق نظر آنا شروع ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے انتظامات کیے گئے تھے تاہم اب تک کسی نے گورنر ہاؤس کی دیواریں نہیں پھلانگیں ۔

 اسلام آباد(نامہ نگار ،اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پولیس کی 10 نئی بکتر بند گاڑیاں خیبرپختونخوا پولیس کے حوالے کر دی ہیں ،وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وزیراعظم نے ان گاڑیوں کی فوری منتقلی کی ہدایت کی تھی ،دریں اثنا  وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں گورننس، امن و امان اور روزمرہ امور کی نگرانی کے لیے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے ،ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے جبکہ کمیٹی میں رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور احسن اقبال بھی شامل ہیں،ذرائع کے مطابق کمیٹی میں امیر مقام، طارق فضل چودھری اور خالد مقبول صدیقی کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔

مزید برآں، پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی ، استحکام پاکستان پارٹی کا ایک، ایک نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوگا،ذرائع کے مطابق کمیٹی خیبر پختونخوا میں حکومتی امور، امن و امان کی صورت حال اور روزمرہ انتظامی معاملات کی نگرانی کرے گی ،دریں اثنا وزیراعظم نے کے پی کے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے اجلاس طلب کرلیا، مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی پارلیمانی پارٹی کی صدارت وزیراعظم کریں گے ، اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 2 میں منعقد ہوگا، وزیراعظم کے پی کے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلوں پر اراکین کو اعتماد میں لیں گے ۔ اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیں گے ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دیں گے ، وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری پارلیمنٹ کے اجلاس کے ایجنڈے پر بریفنگ دیں گے ،ادھرصدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس آج شام طلب کر لئے ہیں ۔ اجلاس کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے احاطے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...