پی ٹی آئی، وکلا تنظیموں کا سپریم کورٹ سے رجوع کا اعلان،لاہورمال روڈ پر ریلی پولیس سے تصادم

پی ٹی آئی، وکلا تنظیموں کا سپریم کورٹ سے رجوع کا اعلان،لاہورمال روڈ پر ریلی پولیس سے تصادم

آج لائحہ عمل طے ،صدر لاہورہائیکورٹ بار ، جدوجہد جاری ر ہیگی،حامد خان، شہباز شریف صاحب!2008 میں جو اقدام غیر قانونی تھا، آج آئینی کیسے ؟رائے محمد علی لانگ مارچ سے خوفزدہ عناصر نے مینڈیٹ پر حملہ کیا، پُرامن احتجاج جاری،معزول کے پی کابینہ ،اپوزیشن کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فضل الرحمن کو شرکت کی دعوت

 لاہور،اسلام آباد(کورٹ رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف ،لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار نے خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کو سپر یم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے ،وکلا نے مشترکہ اجلاس کے بعد مال روڈ پر ریلی نکالی اس موقع پر ان کا پولیس سے تصادم بھی ہوا،ادھر اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا گیاہے جس میں جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کرنا ہماراحق ہے ، ایک دن کے اندر عدالت سے رجوع کریں گے ، کے پی کے میں اب تک ہمارے سینکڑوں ورکرز کو گرفتار کیا جاچکا ہے ، سلمان اکرم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور وزیراعظم کے درمیان تمام معاملات طے پاگئے تھے ، وزیر اعظم نے مولانا سے معاملات طے ہونے کے بعد یہ اقدام اٹھایا اور فضل الرحمن کو فون کر کے آگاہ کیا ،دریں اثنا ہائیکورٹ بار اور لاہور بار کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ نے کہا کہ غیر قانونی اقدام کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں درخواست دائر کی جائے گی ،انہوں نے مزید کہا کہ آ ج کراچی بار میں وکلا ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔

جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، سینیٹر حامد خان نے کہا کہ بہادر سیاست دان سہیل آفریدی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، انہوں نے مثال قائم کی کہ عہدے اہمیت نہیں رکھتے ،حامد خان نے کہا کہ سہیل نے ثابت کیا کہ غیرت مند آفریدی موجود ہیں ، جب تک عدلیہ اور آئین بحال نہیں ہوتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی،مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں صرف ایک حقیقی حکومت تھی، باقی سب جعلی حکومتیں ہیں،حامد خان نے کہا کہ وزیراعظم اور صدرکٹھ پتلی ہیں، ہمیں اصل مسئلے کی طرف جانا ہوگا،مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قانون دان رائے محمد علی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی 2009 میں بھی غیر قانونی اور غیر آئینی تھی، آج بھی غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب! 2008 میں یہ غیر قانونی اقدام تھا، آج یہ کیسے آئین کے مطابق ہے ، میں کے پی کے میں ایمرجنسی کی مذمت کرتا ہوں،اجلاس میں صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

، اجلاس کے بعد وکلاء نے لاہور ہائیکورٹ سے جی پی او چوک تک ریلی نکالی اور شدید نعرے بازی کی ، مال روڈ اور جی پی او چوک پر ریلی کے دوران پولیس اور وکلاء کے درمیان تصادم بھی ہوا، پولیس نے راستہ بند ہونے سے روکنے کے لیے وکلاء کو آگے بڑھنے سے روکا، ،دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا ہے ۔بار کے سیکرٹری بیرسٹر قاسم نواز عباسی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتظامی اختیارات کے ذریعے عوام کی مرضی کو دبانے کی ہر کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی،اعلامیے کے مطابق آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت اور صوبائی خودمختاری ملکی نظام کی اساس ہیں اور سیاسی مفادات کی خاطر وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے فوری طور پر جمہوریت کش اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ متعلقہ حکام آئینی حدود کا احترام کریں، صوبائی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائیں اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔

پشاو(مانیٹرنگ ڈیسک )خیبرپختونخوا کی معزول کابینہ کا اجلاس سینئر نائب صدر سینیٹر نور الحق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں حکومت کے خاتمے ، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کوغیر جمہوری اقدامات قرار دیا گیا،اجلاس میں حکومت کے خاتمے ، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اقدام قرار دیا گیا اور سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر خان،سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، خالد خور شید و پارٹی قائدین کی گرفتاریوں کی مذمت کی گئی،اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ سے خوفزدہ عناصر نے دہشت گردی کے مسئلے کو جواز بنا کر عوامی مینڈیٹ پر حملہ کیا، وفاقی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف صوبہ بھر میں پُرامن احتجاج جاری رہیں گے ، اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف جمہوری حقوق، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی جبکہ مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے فیصلے کا احترام کیا جائے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کیا جائے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...