ٹرمپ کو پہلے جنگ ، اب سیاست کے میدان میں شکست دی: ایران: تہران میں جشن

ٹرمپ کو پہلے جنگ ، اب سیاست کے میدان میں شکست دی: ایران: تہران میں جشن

تہران کے انقلابی اسکوائر، دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر مظاہرین جمع ہوئے ، ٹرمپ کی سلاخوں کے پیچھے علامتی تصاویراویزاں واشنگٹن پالیسی بدلنے کی امید رکھنے والے غلط فہمی کاشکار:مجتبیٰ خامنہ ای،امریکی عوام نے جنگ کیخلاف فیصلہ دیدیا:ایرانی سپیکر

تہران،بیجنگ،لندن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ  ڈیسک)ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی جماعت کو دھچکا لگنے کے باوجود واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی کی امید رکھنے والے سنگین غلط فہمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ امریکی سیاسی جماعتوں کی تبدیلی سے اس کے رویے میں تبدیلی کی توقع درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کو رعایتیں دے کر ایرانی قوم کے خلاف اس کی دشمنی ختم کرائی جا سکتی ہے ، تاہم ایسی سوچ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ایران نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو پہلے جنگ ،اب سیاست کے میدان میں شکست دی،ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا۔انہوں نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ضمیر کی آواز ہو یا مہنگائی کا بوجھ، امریکیوں نے جنگ کو ‘نہ’ کہا ہے اور ہم اس پیغام کی توثیق کرتے ہیں۔اگر امریکی حکومت بین الاقوامی سرپرستوں اور بلیک میل کرنے والوں کی خدمت کیلئے اپنے عوام کی خواہشات سے غداری کرتی ہے ، تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہماری ‘نہ’ ایک بھیانک خواب کے ساتھ آتی ہے ۔

محمد باقر قالیباف اور نائب سپیکر علی نیک زاد سمیت اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی عوام نے مڈٹرم انتخابات میں ووٹ کے ذریعے ٹرمپ کی جنگی جنون اور ایران پر مسلط کردہ تنازع کو مسترد کر دیا ہے ۔ ٹرمپ ایران کو عسکری میدان میں زیر کرنے میں ناکام رہے اور اب امریکی عوام نے انہیں سیاسی میدان میں بھی عبرت ناک شکست سے دوچار کر دیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود امریکی صدر ٹرمپ نے بھی میڈیا سے گفتگو میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کی وجہ سے مختصر مدت کے لیے پٹرول اور فیول کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا، وہ مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی ایک بڑی وجہ بنا۔دوسری جانب امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی واضح شکست کے بعد تہران اور پورے ایران میں حکومتی سطح اور عوامی حلقوں میں بڑے پیمانے پر فتح کا جشن منایا جا رہا ہے ۔ ایرانی حکام اور میڈیا نے ان انتخابی نتائج کو ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگی اور معاشی پالیسیوں کی ناکامی اور ایرانی عوام کی بڑی سیاسی فتح قرار دیا ہے ۔تہران کے مرکزی انقلابی اسکوائر (انقلاب اسکوائر) اور دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر حکومت کے حامی مظاہرین جمع ہوئے ۔ شہر بھر میں بڑے بڑے بل بورڈز اور بینرز آویزاں کیے گئے ہیں جن پر ٹرمپ کی علامتی تصاویر (جس میں انہیں سلاخوں کے پیچھے دکھایا گیا ہے ) لگی ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...