نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ماضی میں شریف خاندان قوم کےوسائل لوٹتارہا،فردوس عاشق
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی کوششوں سےشریف خاندان کی کرپشن عوام کےسامنےآئی،فردوس
  • بریکنگ :- شہبازشریف نےپنجاب کےترقیاتی فنڈمیں خردبردکی،فردوس عاشق
  • بریکنگ :- راولپنڈی میں ٹریفک دباؤکوکم کرنےکیلئےرنگ روڈمنصوبےکاآغازکیاگیا،فردوس
  • بریکنگ :- رنگ روڈمنصوبےمیں کرپشن اوربےضابطگیوں پرانکوائری کل مکمل کی گئی،فردوس
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےراولپنڈی رنگ روڈمنصوبےکی خودنگرانی کافیصلہ کیا،فردوس
  • بریکنگ :- کالی بھیڑوں نےاس منصوبےپربھی ہاتھ صاف کرنےکی کوشش کی،فردوس
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےمعاملےکی انکوائری کی ہدایت کی تھی،فردوس عاشق
  • بریکنگ :- کرپشن میں ملوث افرادکامعاملہ نیب کوبھجوایاجارہاہے،فردوس عاشق
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

احتیاطی تدابیر، بچاؤ کا راستہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے بقول گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں کورونا ایس او پیز کی تعمیل کی اوسط شرح دوگنا ہو چکی ہے۔یہ رجحان خوش آئند ہے مگریہ سمجھ لینا کہ چند ہفتوں کے لیے پابندیاں لاگو کر کے ہم اس وبا سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ‘ غلط فہمی ہے۔ اس عالمگیر وبا سے بچاؤ یقینی بنانے کے لیے ایس او پیز کی پابندی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہو گا۔ اس حوالے سے عالمی‘ علاقائی حالات و واقعات اور مستقبل کی ممکنہ صورتحال سے حکومت بخوبی واقف ہے ؛چنانچہ ضروری ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں پائیدار اور جامع پالیسی وضع کی جائے اور عوام کو اس عالمگیر وبا کے خلاف ایک لمبی لڑائی لڑنے کے لیے تیار کیا جائے۔

احتیاطی تدابیر پر عمل ہی کورونا وبا سے بچاؤ کی مؤثر صورت ہے‘ اس ضمن میں ہمیں اپنی مثال سے بھی سیکھنا چاہیے کہ گزشتہ برس پابندیوں پر عمل کیا گیا تو وبا کا پھیلاؤ کنٹرول میں رہا اور مئی کے وسط تک یومیہ نئے کیسز کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ رہی مگر عید الفطر کے موقع پر جب احتیاطی تدابیربڑے پیمانے پر نظر انداز کی جانے لگیں تو جون کے مہینے میں یومیہ نئے کیسز چار سے چھ ہزار تک جا پہنچے۔ اگلے چند ماہ کے دوران ان کیسز میں گراوٹ ظاہر ہونا شروع ہوئی اور اگست سے اکتوبر تک نئے کیسز کی یومیہ تعداد چند سو تک رہ گئی مگر گزشتہ سال کے آخر سے صورتحال ایک دفعہ پھر شدت اختیار کرگئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔وطن عزیز میں پچھلے ایک برس کے دوران وبا کی صورتحال کو دیکھیں تو اس میں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد اور کوتاہی وبا کی کمی بیشی پر واضح طور پر اثر انداز دکھائی دیتی ہے۔یہ واضح نظر آتا ہے کہ وہ مہینے جب احتیاطی تدابیر پر خصوصی طور پر عمل کیا گیا اس دوران وبا میں کمی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوئے ‘ مگر کیسز میں کمی کے بعد ہماری روایتی سہل پسندی اثر دکھاتی رہی ‘ احتیاطیں بالائے طاق رکھ دی گئیں‘ ایسا فرض کر لیا گیا کہ وبا کی لہر ہمیں چھو کر گزر گئی ہے ‘ مگر کوتاہی کے اس دور کا نتیجہ وبا کے نئے حملے کی صورت میں سامنے آیا۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس بار بھی ہم وہی غلطی دہرانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی جانب سے عید کے دنوں تک ایس او پیز پر عمل درآمد کی تاکید سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ بعد از عید پابندیوں میں نرمی کا جواز مہیا کیا جارہا ہے؛ تاہم اس ضمن میں عالمی اور علاقائی صورتحال کومد نظر رکھنا ہو گا۔ ہمارے لیے بھارت کی مثال اس وبا کی بھیانک ترین صورت کو سمجھنے میں مدد کر سکتی ہے۔

صرف علاقائی قربت ہی نہیں ہم اپنے طبی وسائل کو بھی بھارت کے تناظر میں رکھ کر بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا وبا کے حوالے سے گزشتہ برس اور آج کے دور میں ایک بڑا فرق کورونا ویکسین کی دستیابی کا بھی ہے۔ گزشتہ برس تقریباً ساری دنیا اس وبا سے بچاؤ کی تدابیر پر انحصارکرنے تک محدود تھی مگر اس سال ویکسین کی دستیابی نے اس وبا کے خلاف دفاع کا ایک قوی امکان پیدا کر دیا ہے ؛چنانچہ وہ ممالک جو اپنی آبادیوں کے بیشتر حصے کو ویکسین لگا چکے ہیں اور وہ ممالک جو ابھی تک محروم ہیں ‘ ہر دو کی صورتحال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگرچہ عمومی احتیاطیں اُن ممالک میں بھی بروئے کار ہیں جہاں آبادی کے خاظر خواہ حصے کو ویکسین لگ چکی ہے مگر ہمارے جیسے ممالک جن کی کروڑوں کی آبادی میں ابھی تک چند لاکھ افراد ہی ویکسین سے مستفید ہو سکے ہیں‘ کے لیے وبا کے حملوں سے بچاؤ کاابھی تک کُلی دارومدار ان احتیاطی تدابیر ہی پہ ہے۔یہ احتیاطی تدابیر نہ صرف ہمارے لیے طبی آسرا ہیں بلکہ ہماری معیشت کی حرکت کابھی ان پر اہم دارومدار ہے۔ اگر یہ بات آج سے تین ‘ چار ماہ پہلے سمجھ لی جاتی کہ کورونا کی احتیاطی تدابیر طبی بچاؤ کے علاوہ معاشی بچاؤ کا ذریعہ بھی ہے توشاید وبا کی تیسری لہر اور اس کے جانی اور مالی نقصانات سے بچاؤ کی کوئی صورت پید اہو سکتی مگر ہمارے لیے اب بھی موقع ہے‘ ہمیں بھارت اور اس خطے کے کئی دیگر ممالک کی جانب دیکھنا چاہیے۔

ہمیں اپنے طبی نظام کی کمزوریوں کو بھی باور کرنا چاہیے ‘ سمجھنا چاہیے کہ جو ممالک اپنی نصف یا اس سے زائد آبادیوں کو کورونا ویکسین لگا چکے ہیں وہ تو معمولات بحال کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ وہ ممالک جن کی کثیر آبادیاں ابھی اس سے محروم ہیں ان کے لیے کورونا وبا آج بھی اُسی طرح جان لیوا اور تباہ کن ہے جیسی یہ کبھی تھی؛چنانچہ احتیاطی تدابیر کو زندگی کا مستقل حصہ بنانے کے لیے عوام کی ذہن سازی کی جانی چاہیے۔ کم از کم نصف سے زائد آبادی کو کورونا ویکسین لگنے تک ان پابندیوں کو پس پشت ڈالنے کا کوئی جواز نہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کی حکومتی کوشش سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد میں اضافے کا رجحان خوش آئند ہے مگرچندہفتوں کی اس احتیاط کوعید کے بعد اگر حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو سمجھیں یہ کوشش بیکار گئی۔تاہم اس عالمگیر وبا کے خلاف تحفظ کی یقینی صورت ویکسین ہی ہے ؛چنانچہ ویکسین کی فراہمی کا عمل تیز تر کرنا ہو گا۔ حکومت کو اس معاملے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہو گی تا کہ ملک کے اندر ویکسین کی تیاری کی امید جلد از جلد پوری ہو سکے ‘ جب تک یہ عملی صورت اختیار نہیں کرتا احتیاط ہی بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement