نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کااجلاس،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- اجلاس کی صدارت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نےکی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- اجلاس میں تینوں سروسزکےچیفس نےشرکت کی، آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- اجلاس میں سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال ،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بدلتی صورتحال اورپیشرفت کےتناظرمیں تذویراتی اورروایتی پالیسیوں پربات چیت
  • بریکنگ :- خطےمیں دیرپاترقی کیلئےافغانستان میں امن کی اہمیت پرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- عسکری قیادت کادفاعی افواج کی تیاریوں پرمکمل اطمینان کااظہار،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ہر قسم کےخطرات کامنہ توڑ جواب دینےکےلیےمسلح افواج کے عزم کا اعادہ
  • بریکنگ :- دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسزکی قربانیوں کوسراہاگیا
  • بریکنگ :- جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرزقومی امنگوں کےمطابق کام کررہاہے،جنرل ندیم رضا
Coronavirus Updates
اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

قومی ہم آہنگی اور ملکی مفاد

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز کراچی میں سرکلر ریلوے منصوبے کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر ملک اور صوبے کی خاطر مل کر چلنا ہے کیونکہ بہت سے معاملات میں وفاقی حکومت اور بہت سے معاملات میں صوبائی حکومت اکیلے کچھ نہیں کر سکتی۔ وزیر اعظم نے وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی کا جو نقطہ نظر پیش کیا اور سیاسی اختلافِ رائے سے بلند ہو کر قومی مفاد کی خاطر یکجا ہو کر کام کرنے کی اہمیت کو جس طرح اجاگر کیا‘ یہ بات ہمارے قومی سیاسی منظر نامے میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے مگر ہمارے ہاں سیاسی بیانیے کا ٹکراؤ ہم آہنگی کی خواہش کا اکثر امتحان لیتا ہے ۔یہ سامنے کی بات ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں ٹکراؤ کا کوئی موقع جانے نہیں دیتیں ۔ورکنگ ریلیشن شپ کا یہ بحران حیران کن بلکہ تشویش ناک ہے اور ملک اور جمہوریت کو اس سے پہنچنے والا نقصان ظاہر و باہر ہے۔سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ اس حد سے بڑی ہوئی تنقید اور الزام تراشی کے عدم توازن میں سیاسی بلوغت کا ماحول نہیں بن پایا۔ سنجیدگی کا فقدان ہے اور زبان و بیان میں دلائل سے زیادہ الزام تراشی سے کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رہنماؤں کا یہ طرزِ عمل عوام کو خوش نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی قومی خدمت انجام پاتی ہے؛چنانچہ ضروری ہے کہ جمہوری مکالمے کے شایانِ شان متین اور مدلل سیاسی لب و لہجہ اختیار کیا جائے ‘ بے بنیاد باتوں سے اجتناب کیا جائے اور ہر رہنما دوسرے کے شخصی وقار کا احترام کرنا سیکھے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔ وفاقی سطح پر ایسے سیاسی کلچر کو فروغ دیا جانا چاہیے جس میں شخصی احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے اور سیاسی اختلاف پر قومی مفادکو قربان نہ کیا جائے۔ وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ صوبوں کے ساتھ مثالی تعلقات کا ماحول پیدا کرے اوراس میں اپنی‘ اتحادی جماعت اور اپوزیشن جماعت کی تخصیص نہیں ہونی چاہیے۔ اسی سے مضبوط قومی تصور اجاگر ہو سکتا ہے اور قومی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔

ہمارے ہاں وفاقی حکومتیں  اکثر اپنی اس ذمہ داری سے انصاف نہیں کرتیں ۔ اپنی یا اپنی اتحادی جماعتوں کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ تو سبھی بنا کر رکھتے ہیں مگر صوبائی سطح پر معاملہ اگر مخالف سیاسی جماعت سے ہو تو ہم آہنگی کی اہمیت کو کون پوچھتا ہے۔ہماری ملکی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کے معاملات ہی کو دیکھ لیں۔ ماضی قریب کے بیانات پر نظر دوڑائیں اور غور کریں کہ اس لب و لہجے اور الزامات کے تبادلے نے صوبے اور وفاقی حکومت کے تعلقات کو کس قدر نقصان پہنچایا۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز کراچی میں سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھنے اور ملک کی خاطر مل کر چلنے کی بڑی بات کی تو ہے مگر کیا ایسا واقعتاً ہو گا؟ اس سوال کا جواب بہت جلد مل جائے گا ۔اگر ماضی کو مد نظر رکھیں تو اندیشہ یہ ہے کہ محاورتاً وزیر اعظم کے لفظوں کی روشنائی بھی ابھی خشک نہیں ہو ئی ہو گی کہ کوئی خوش بیان الزام تراشی اور سیاسی اختلافِ رائے کے بر سر عام غیر متوازن اظہار سے قومی ہم آہنگی کی ان امیدوں پر پانی پھیر دے گا۔ اگر وزیر اعظم واقعی سمجھتے ہیں کہ قومی مفاد کی خاطر صوبے اور وفاق میں ہم نوائی ضروری ہے اور آگے بڑھنے کے لیے راستے کی بڑی رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہیے تو انہیں بطور سربراہِ حکومت اور بطور پارٹی چیئرمین قدم بڑھانا ہو گا اور یہ روایت قائم کرنا ہو گی کہ سیاسی اختلافات قومی مفاد پر حاوی نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر وہ کامیابی سے ایسا کر لیں تو یہ ملکی سیاسی تاریخ میں اہم ڈویلپمنٹ شمار ہو گی ۔ صرف امید پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا‘ وزیراعظم نے جو کہا‘ کیا ایسا ہوتا ہے یا نہیں‘ یہ آنے والے چند دنوں میں ظاہر ہو جائے گا۔

مگر تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوتا یعنی وفاق اور صوبوں میں سیاسی ٹکراؤ کی روایت برقرار رہتی ہے تو رائے عامہ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے‘ یقینا قومی ترقی کے منصوبوں پر بھی۔ جب ہم صوبے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف ایک مخصوص علاقہ ہی نہیں‘ اس علاقے میں بسنے والے انسان اور ان کی رائے‘ سوچ اور انتخاب کا احترام بھی اہم ہے ۔ وفاق اور وفاقی اکائیوں میں تعلق کی نوعیت میں اس حساسیت کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکلنی چاہیے جو کسی وفاقی اکائی کے باسیوں کے احساسات کو زد پہنچانے کا سبب بن سکتی ہو۔ وطنِ عزیز کی صوبائی اکائیوں کا تنوع کیا خوبصورت امتزاج ہے ‘ ہر صوبہ کسی نہ کسی لحاظ سے انمول اہمیت کا حامل ہے؛چنانچہ پائیدار اور مستحکم ترقی کا انحصار وفاق اور وفاقی اکائیوں میں تعلقات کے توازن پر ہے۔ یہ خوشگوار صورتحال پاکستان میں ترقی کے سفر کو تیز کر سکتی ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ سیاسی سطح پر ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ اگر وفاقی سطح پر سوچ یہ ہو کہ حکومت ریاست کے اہم ترین عہدوں پر تقرریوں کیلئے پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے مشورہ کسرِشان سمجھے تو وزیر اعظم کی کہی گئی ان اچھی باتوں کے عملی صورت اختیار کرنے کا کیا امکان رہ جاتا ہے؟

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement