اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیاسی بے یقینی اور بازارِ حصص

گزشتہ روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان رہا جس سے بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس میں 1878 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔ اس مندی کے سبب 85فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے دو کھرب 64ارب 52کروڑ روپے سے زائد ڈوب گئے۔ معاشی ماہرین نے اس مندی کو عام انتخابات کے بعد پیدا ہونیوالی سیاسی بے یقینی کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ سیاسی بے یقینی کے خاتمے تک یہ تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ صرف سٹاک ایکسچینج ہی نہیں پوری ملکی معیشت کی بہتری ملک میں سیاسی استحکام سے مشروط ہے۔ ملک میں گزشتہ دو برس کے دوران جو سیاسی بے یقینی کی فضا قائم رہی اس نے معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔اس ضمن میں سیاسی سٹیک ہولڈرز پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کرنے کیلئے ملک میں سیاسی استحکام کا قیام یقینی بنائیں۔ انتخابات کا مقصد مثبت انداز میں آگے بڑھنے کا راستہ نکالنا ہوتا ہے‘ سیاسی سٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے سیاسی بے یقینی دور کرنے کی کوشش کریں۔نو منتخب حکومت کو معاشی مسائل کا دیرپا حل تلاش کرنے کیساتھ ساتھ سیاسی استحکام کی کو بھی اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement