اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئی حکومت کے چیلنجز !

حکومت سازی کی غرض سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں شراکت ِاقتدار کے لیے میل ملاقات جاری ہے اور اس حوالے سے دو نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کی خبریں بھی آئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ممکنہ حکومتی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتیں آئندہ پانچ برس کے حکومتی دور میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کی خواہش رکھتی ہیں اور اس کے لیے پانچ برس کی مدت کو تین اور دو برس کے وقفوں میں بانٹ سکتی ہیں۔اگرچہ یہ باتیں ابھی ابتدائی مرحلے میںہیںاس لیے اسے حتمی فارمولا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ممکنہ طور پرآنے والے چند دنوں میں‘ جب دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے کیے جائیں گے تو آنے والی حکومت کی تشکیل واضح ہو سکے گی۔ بادی النظر میں آنے والی حکومت پی ڈی ایم طرز کی اتحادی حکومت ہو گی جس میں قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی متعدد جماعتیں شامل ہو سکتی ہیں۔یہ حکومت ا گرچہ نئی ہو گی مگر ملک کے مسائل وہی پرانے ہیں اور پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت کے دیکھے بھالے ہیں‘ بلکہ ان میں بہت سے سابقہ حکومت ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ آنے والی حکومت کو ان معاشی‘ سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہو گا جو بے شک نئے نہیں مگر پچھلے کچھ عرصہ کے ملکی حالات نے انہیں سنگین تر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کہہ چکا ہے کہ سٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی آخری قسط کے اجرا کے لیے وہ نگران حکومت کے بجائے ملک کی نئی حکومت سے مذاکرات کرے گا۔ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام مارچ میں ختم ہونے والا ہے اور بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ نئی حکومت کے لیے فوری طور پر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیتی ہے۔ آنے والی حکومت کو یہ چیلنج بھی درپیش ہو گا کہ رواں مالی سال کے دوران 25بلین ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا سامنا ہو گا‘ یہ رقم اس وقت زرِمبادلہ کے کل ملکی ذخائر سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔علاوہ ازیں بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے تقریباً ایک بلین ڈالر کے بانڈز اپریل میں میچور ہو جائیں گے۔اگرچہ اس ادائیگی کے معاملے کی مد میں  نادہندگی کا خطرہ تو ظاہر نہیں کیا جارہا؛ تاہم یہ ادائیگی ملک کے ڈالر کے ذخائر پر کافی بھاری پڑے گی‘جو اس وقت 8 بلین ڈالر کے قریب ہیں۔یہ منظر نامہ آنے والی حکومت کو قدم رکھتے ہی اقتصادی مشکلات کے گھیرے میں لیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ایسی صورتحال میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات ناگزیر ہو جاتے ہیں‘ مگر اس کی اپنی قیمت ہے جو مہنگائی میں اضافے اور معیشت پر مزید بوجھ کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گی۔اس طرح مہنگائی میں کمی اور معاشی آسودگی کا خواب فی الحال ہنوز دلی دور است والا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ عام انتخابات کے ساتھ یہ امید وابستہ کی گئی تھی کہ سیاسی ماحول کی تلخیوں میں کمی آئے گی‘ تاہم انتخابی نتائج اور ان نتائج کی بنا پربننے والی حکومت کیا سیاسی ماحول کو نارمل کر پائے گی‘ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ سیاسی تصادم کے اس ماحول نے سماج کو بھی شدید ناامید کیا ہے۔ آج ملک میں بے یقینی کی سطح ماضی کے کسی بھی سیاسی دور سے کہیں زیادہ ہے اور لوگ کئی طرح کے دباؤ میں ہیں۔ انتخابات کے ساتھ قدرتی طور پر یہ توقع وابستہ کر لی جاتی ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ملکی ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئے گی مگر انتخابات کے ابھی پورے نتائج بھی برآمد نہیں ہوئے اور شکایات کے انبار لگ گئے ہیں اور حالات یہ ہیں کہ بعض امیدواروں نے اپنی ہی برتری کے اعلان مسترد کرتے ہوئے انتخابی شفافیت پر انگلیاں اٹھا دی ہیں۔ دوسری جانب حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ پورے زوروں پر ہے۔ یہ صورتحال عوامی مایوسی کو بڑھائے گی اور انتخابات کے بعد سماجی بے یقینی میں کمی کے بجائے اضافہ خارج از امکان نہیں۔ اس قسم کے حالات ہوں تو سرمایہ سب سے پہلے راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔ ابھی دو روز پہلے ایک معاصر کی رپورٹ میں اس حوالے سے چونکا دینے والی تفصیلات سامنے لائی گئیں کہ پاکستانی سرمایہ کار کس تیزی سے خلیجی ریاستوں میں منتقل ہورہے ہیں۔ یہ ملکی حالات پر عدم اعتماد کا اشارہ نہیں تو کیا ہے؟اور جب صورتحال اس قسم کی ہو تو باہر سے سرمایہ کاری لانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ملک مسائل کی دلدل میں ہے‘ مگر ہمارے سیاستدان یہ دیکھتے ہوئے بھی اپنے طور طریقوں پر نظر ثانی کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ تاہم سیاسی انتشار کا نتیجہ شورش کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس ماحول نے ترقی کے جاری منصوبوں کو بھی گہنا دیا ہے۔اس سیاسی انتشار سے صرف ترقی کا عمل ہی نہیں ملکی تشخص بھی بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد عالمی میڈیا نے پاکستان کی جو رپورٹنگ کی ہے اس میں مثبت تاثر ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہے۔ آنے والی حکومت کو ان گونا گوں دیدہ اور نادیدہ چیلنجز سے نمٹنا ہو گا۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو حالیہ انتخابات ایک اہم وقت پر ہوئے ہیں۔ اس وقت سیاسی‘ معاشی اور سماجی معاملات میں ہمیں ایک نئی پہل کی ضرورت ہے‘ اوریہ سیاسی رہنماؤں کی لیاقت اور خلوص کا امتحان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس میں کس حد تک پورے اترتے ہیں۔ آنے والے چند ماہ یہ بھی ثابت کر دیں گے کہ ہمارے سیاستدانوں نے وقت اور تجربات سے کیا سیکھا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ملک و قوم ان سے پُر خلوص جذبہ اور محنت طلب کرتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement