اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سخاوت اور تنگ دستی

ورلڈ گیونگ رپورٹ (WGR) 2025ء کے مطابق پاکستانی عوام سخاوت اور عطیات کے حوالے سے عالمی سطح پر 101 ممالک میں 17ویں نمبر پر آتے ہیں۔ یہ درجہ بندی ملک کی ایک مثبت تصویر پیش کرتی ہے کہ سماجی ہمدردی ہمارے معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ تاہم اسی رپورٹ کے مطابق ملک کی تقریباً 42 فیصد آبادی مالی تنگ دستی کا شکار ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں معاشرتی و اقتصادی چیلنجز بہت سنگین ہیں۔ حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ کمزور طبقے کی مالی مشکلات کم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے۔ اس کا سب سے ضروری اقدام لوگوں کی قوتِ خرید بڑھانا ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں بلکہ معیشت میں بھی مثبت حصہ ڈالیں۔

اس ضمن میں حکومت سول سوسائٹی کو ساتھ ملا کر ایسے شفاف اور قابلِ اعتماد منصوبوں کا آغاز کر سکتی ہے جن کے ذریعے خیرات اور سماجی امداد مؤثر انداز میں مستحق افراد تک پہنچ سکے۔ غربت اور مالی عدم مساوات صرف متاثرہ افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کیلئے یہ بڑا خطرہ ہیں۔ ضروری ہے کہ معاشی و سماجی اقدامات کیساتھ ساتھ ثقافتی اور مذہبی مواقع کو بروئے کار لاتے ہوئے مستحکم پروگرام بنائے جائیں تاکہ کمزور طبقات کی عارضی مدد کے بجائے انہیں پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بھی بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں