افغانستان اوردہشت گردی
پاکستان کو افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی اداروں نے رپورٹیں جاری کی ہیں۔ حال ہی میں شہرت یافتہ عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے بھی اس صورتحال کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان 2021ء میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ 2022 ء سے پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ پاکستان افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کرتا آیا ہے مگر طالبان کی جانب سے خاطر خواہ اور نتیجہ خیز اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بگاڑ آیا اور گزشتہ برس اکتوبر کے اوائل میں جھڑپیں ہوئیں۔ اگرچہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے جنگ بندی ہو گئی لیکن افغان طالبان رجیم پاکستان کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی نہیں کروا سکا۔ 2021ء میں افغانستان سے انخلا کے وقت وہاں چھوڑا گیا اسلحہ اور فوجی ساز وسامان دہشت گردوں کیلئے بڑا اثاثہ ثابت ہوا ہے۔ انخلا کے وقت تقریباً سات ارب ڈالر مالیت کا فوجی ساز وسامان افغانستان میں چھوڑ دیا گیا ۔

افغانستان میں تعمیر نو کے امریکی منصوبے (ایس آئی جی اے آر) کی رپورٹ کے مطابق اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار اور فوجی سازو سامان جو 2021ء میں افغانستان میں چھوڑ ے گئے‘ دہشت گرد عناصر کی سب سے بڑی قوت ثابت ہو رہے ہیں۔ افغانستان کی اس صورتحال میں پاکستان سمیت پورے خطے کیلئے سلامتی کے خطرات میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ اس اندیشے کو درست ثابت کرتا ہے۔ گزشتہ برس یہاں دہشت گردی کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 699 دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں کم از کم 1034 افراد جاں بحق اور 1366 زخمی ہوئے۔ گزشتہ برس پاکستان میں مسلسل پانچویں سال دہشت گردانہ حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی تاہم 2021ء کے بعد سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہر سال بڑھتے چلے گئے۔ 2020ء میں اس سے ایک برس پہلے کی نسبت دہشت گردی کے واقعات میں 36 فیصد کمی آئی‘ تا ہم 2021ء میں 42 فیصد اضافہ ہو گیا۔ 2022ء میں 27 فیصد اضافہ ہوا ‘ 2023ء میں 17 فیصد اور 2024ء میں ایک برس پہلے کے مقابلے میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔
اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے محرکات افغانستان میں ہیں۔ گزشتہ پانچ برس کے واقعات پاکستان کو کچھ نئے تزویراتی فیصلے کرنے کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔ ان میں ایک اہم فیصلہ پاک افغان سرحد پر آہنی پردہ ڈالنے اور دہشت گردی کے روایتی رخنوں کو سختی سے بند کرنے کا ہے۔ ملک میں افغان سہولت کاری کی روک تھام کیلئے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں ان سے قومی سلامتی میں خاصی مدد ملنے کی امید ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اقدامات اور اندرون ملک سہولت کاری میں کمی دہشت گردی میں کمی کا سبب بنے گی۔ افغان سرحد کی بندش‘ غیر قانونی نقل وحرکت کی روک تھام کیلئے کڑے اقدامات اور اندرون ملک افغان سہولت کاری کے وسائل کی بیخ کنی کے نتیجے میں قوی امید ہے کہ 2026ء میں دہشت گردی کے خطرات میں کمی نظر آئے گی۔ پاکستان کی جانب سے اندرون ملک اور سرحد پر کیے جانے والے اقدامات کے باوجود عالمی برادری کی ذمہ داریاں اپنی جگہ پر ہیں۔ افغانستان میں انتہا پسندوں کا اکٹھ اور وہاں پر چھوڑا ہوا غیر معمولی مقدار میں جدید اسلحہ اور فوجی سازو سامان پاکستان سمیت افغانستان کے ساتھ ملنے والے سبھی ممالک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔