اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

اسلام آباد میں شجر کُشی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اپنی ہریالی‘ قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کے باعث پہچانا جاتا رہا ہے مگر حالیہ دنوں شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے نہ صرف اس شناخت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ ماحولیاتی تباہی کے مضمرات کا خطرہ بھی بڑھ چکا ہے۔ گلوبل فاریسٹ واچ کے مطابق 2001ء سے 2024ء کے دوران وفاقی دارالحکومت میں لگ بھگ 35ایکڑ رقبے کے مساوی جنگلات کا خاتمہ ہو چکا۔ خبروں کے مطابق شہری انتظامیہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں 29ہزار سے زائد درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ درخت فضا میں پولن پھیلا کر الرجی اور سانس کی بیماریوں کا سبب بن رہے تھے اور ان کی جگہ نئے پودے لگائے جا رہے ہیں‘مگر یہ جواز حقائق سے متصادم معلوم ہوتا ہے۔

اول تو کاٹے جانے والے درختوں میں جنگلی شہتوت کے علاوہ دیگر درخت بھی شامل ہیں‘ نیز خزاں اور کہرے کے موسم میں شجر کاری کا بھی کوئی جواز نہیں۔ علاوہ ازیں نئے پودوں‘ جن میں اکثر نمائشی پودے ہیں‘ کو ماحولیاتی تحفظ فراہم کرنے کے قابل بننے میں 10 سے 15 سال کا عرصہ درکار ہو گا جبکہ نقصان فوری اور غیرمعمولی ہے۔ حکومت کو اس سنگین معاملے پر محض نوٹسز لینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستقبل کیلئے ایسی مربوط‘ سائنسی اور شفاف ماحولیاتی پالیسی اپنائی جائے جو پورے ملک میں ہریالی اور قدرتی تنوع کا تحفظ یقینی بنائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں