اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پتنگ بازی‘ مسائل برقرار

لاہور میں آج سے بسنت کے تین روزہ تہوار کا آغاز ہو رہا ہے‘ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ تمام مسائل حل کر لیے گئے جن کی بنا پر ماضی میں اس تہوار پر پابندی عائد کی گئی تھی؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بننے والی قاتل ڈورکی تیاری اور فروخت آج بھی زور و شور سے جاری ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں دھاتی ڈور پھرنے سے دو کمسن بچے شدید زخمی ہو گئے‘ گزشتہ ہفتے لاہور میں بھی ایسے ہی دو واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبے میں اینٹی کائٹ فلائنگ ایکٹ کے نفاذ کے باوجود دھاتی ڈور کی فروخت پر قابو نہیں پایا جا سکا اور آج بھی دھاتی ڈور بنانے اور فروخت کرنے کا دھندہ جاری ہے۔

بسنت کوئی عام تہوار نہیں ہے بلکہ یہ انسانی جانوں سے جڑا ایک سنگین معاملہ ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت کی جانب سے بسنت کے دوران حفاظتی انتظامات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تاہم یہ یقین دہانی محض بیانات کی حد تک محدودنہیں رہنی چاہیے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ بسنت کو محفوظ انداز میں منائیں‘ قاتل ڈور‘ دھاتی تار اور دیگر خطرناک اشیا سے مکمل اجتناب کریں۔ بسنت کے دوران موٹر سائیکل پر حفاظتی انٹینا سمیت دیگر تمام قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس میں کوئی غفلت کی گئی تو یہ تہوار ایک بار پھر خونیں کھیل بن کر تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں