انسدادِ دہشت گردی کا کثیر جہتی لائحہ عمل
بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن رد الفتنہ وَن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔ اس دوران بھارتی حمایت یافتہ 216 دہشت گرد کیفر کردار کو پہنچے‘ دہشت گردوں کے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 36 بے گناہ شہری شہید ہوئے اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 اہلکاروں نے ملکی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت‘ کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور عملی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اعلامیہ میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت اور عزم کیساتھ جاری رہیں گی۔ آپریشن ردّ الفتنہ وَن بلاشبہ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی جانب سے تمام دہشت گردوں‘ بیرونی ایجنٹوں اور فتنہ پرور عناصر کے خلاف ایک بھرپور اعلانِ جنگ ہے‘ جو اس خطے کے امن اور خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ حکومت‘ عسکری قیادت اور متعلقہ حکام کے بیانات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے نئے ابھرنے والے خطرات سے پوری طرح آگاہ اور ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پُرعزم ہے۔ بلوچستان کو کئی دہائیوں سے مختلف نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔

دہشت گرد گروہوں کو ریاستِ پاکستان کے دشمنوں سے ملنے والی حمایت اور فنڈنگ نے ان خطرات کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ دشوار گزار جغرافیائی حالات بھی نفاذِ امن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ پھر بلوچستان کی سماجی ومعاشی محرومیاں بھی پائیدار امن و استحکام کیلئے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ بسا اوقات ملک دشمن عناصر انہی محرومیوں اور علاقائی پسماندگی کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک کثیر جہتی حکمتِ عملی درکار ہے‘ جو نہ صرف عسکری کارروائیوں پر مشتمل ہو بلکہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی عوامل پر بھی بھرپور توجہ دے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں ایک مضبوط اور متفقہ قومی بیانیے کی ضرورت ہے‘ جس میں دہشت گردی کی ہر شکل کی واضح مذمت ہو‘ ریاست کی عملداری کو برقرار رکھنے کا عزم ہو اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہو۔ مختلف طبقات اور علاقوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینا‘ بیرونی مداخلت کے خلاف یکجہتی اور سیاسی رابطہ کاری جیسے نکات بھی اس متفقہ قومی بیانیے کا حصہ ہوں۔ مختلف سکیورٹی اداروں اور ایجنسیوں کے درمیان قریبی تعاون‘ ہم آہنگی اور بروقت اور مؤثر انٹیلی جنس شیئرنگ کے علاوہ دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سب سے زیادہ ضروری ہے مقامی آبادی کو ساتھ لے کر چلنا اور متاثرہ علاقوں میں بحالی اور ترقیاتی کاموں کو ترجیح دینا۔ نیشنل ایکشن پلان میں سیاسی‘ عسکری اور سماجی‘ ہر شعبے کی ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا مگر دہشت گردی کے خلاف عسکری کارروائیاں تو جاری ہیں البتہ سیاسی اور سماجی سطح پر قابلِ ذکر پیشرفت نہیں ہو رہی۔ ردّ الفتنہ وَن جیسے عسکری آپریشنز امن کی جانب اہم قدم ضرور ہیں تاہم پائیدار استحکام کیلئے ضروری ہے کہ عسکری کامیابیوں کو سماجی ہم آہنگی‘ معاشی ترقی اور سیاسی استحکام سے بھی جوڑا جائے۔ بلوچستان کے عوام کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا‘ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانا بھی طویل مدتی امن کیلئے ناگزیر ہے۔ ریاست‘ سکیورٹی اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں ہی سے پائیدار امن اور خوشحالی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔