اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بھارتی ہٹ دھرمی

پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے جانے کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون پر قائم ہے۔ عالمی ثالثی عدالت میں انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کی حالیہ سماعت میں پاکستان نے اپنے حصے کے دریاؤں پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے ڈیموں کے ڈیزائن‘ ساخت اور مقاصد پر تفصیلی قانونی و تکنیکی اعتراضات پیش کیے۔ عالمی ثالثی عدالت نے بھی اس نکتے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے کہ بھارتی ہائیڈرومنصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور تعمیر کے بعد دریاؤں میں پانی کے متوقع بہاؤ کا تعین ناگزیر ہے۔ اس کے برعکس بھارت کا رویہ مسلسل غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔

نہ تو اس نے عالمی ثالثی عدالت کی کسی سماعت میں شرکت کی‘ نہ ہی اقوامِ متحدہ میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر کوئی جواب پیش کیا ہے۔ بھارت کا بین الاقوامی اداروں کے سامنے پیش نہ ہونا اور قانونی عمل سے گریز اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ وہ پانی کو پاکستان کے خلاف سیاسی دباؤ اور طاقت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس لیے عالمی اداروں کو اب محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے بھارت پر نتیجہ خیز دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی سے باز آئے اور خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیلنے سے روکا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں