افغانستان ٹی ٹی پی کا سرپرست
اقوامِ متحدہ کی کالعدم تنظیموں پر پابندیوں کی نگرانی کرنیوالی ٹیم کی جانب سے سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی رپورٹ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کو افغانستان میں حاصل آزادی‘ سہولت اور عملی معاونت کے باعث پاکستان میں اسکے حملوں کی تعداد‘ وسعت اور شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح داعش خراسان کی شمالی افغانستان اور پاک افغان سرحد کے قریب موجودگی پورے خطے کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ عوامل اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان ایک بار پھر مختلف دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے۔رپورٹ میں افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اور نیٹو ہتھیاروں کے ذخائر کا ذکر بھی ہے‘ جن سے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ رپورٹ نہ صرف افغان قیادت کے بیانیے کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے بلکہ اقوامِ متحدہ اور تمام علاقائی ممالک کیلئے بھی چشم کشا ہونی چاہیے۔ اگر افغانستان میں دہشتگردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کا سلسلہ جاری رہا تو یہ خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے‘ اور بعید نہیں کہ یہ فتنہ ایک بار پھر عالمی خطرے کی شکل اختیار کر لے۔ اقوامِ متحدہ کو اس رپورٹ کی روشنی میں بروقت‘ مؤثر اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ پاکستان سمیت خطے کے امن کو لاحق اس خطرے کا مستقل سدباب کیا جا سکے۔