اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نیٹ بلنگ بمقابلہ نیٹ میٹرنگ

نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں آناً فاناً تبدیلی کا فیصلہ سولر بجلی کے صارفین کیلئے زوردار جھٹکا ہے۔ ملک میں بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے‘ سلیبزکے داؤ پیچ اور بجلی کے بلوں پر نت نئے ٹیکسوں سے گبھرا ئے ہوئے صارفین کو سولر انرجی کی صورت میں عافیت کی ایک صورت نظر آئی تھی اور نیٹ میٹرنگ کی پالیسی‘ جس کے تحت سولر انرجی کے چھوٹے پروڈیوسرز جن میں گھریلو بھی شامل ہیں اور صنعتی بھی‘ کے ساتھ بجلی کی خریدو فروخت کے معاہدے کیے گئے۔ مگر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں تبدیلی کے من مانے فیصلے کے بعد سولر صارفین کو ان سبھی فوائد سے محروم کر دیا گیا ہے۔ نیٹ بلنگ کے نام سے آنے والی نئی پالیسی کی رُو سے سولر صارفین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو اپنی پیدا کردہ بجلی 26روپے کے پرانے نرخوں کے بجائے اب 11 روپے میں فروخت کریں گے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے 40‘50روپے یونٹ میں وہی بجلی خریدیں گے۔

سولر صارفین کو اس فائدے سے محروم کر دیا گیا ہے کہ ان کی پیدا کی گئی بجلی کو ان کے استعمال شدہ یونٹس سے منہا کر دیا جائے۔ ہمارے ہاں حکومتی سطح پر فیصلے کس طرح وسیع سوچ بچار کے بغیر کیے جاتے اور یکلخت تبدیل ہوتے ہیں‘ یہ اقدام اس کی کلاسیک مثال ہے۔ مگر اس کے اثرات وسیع تر ہوں گے۔ اس وقت جب دنیا فوسل فیول کے بجائے ماحول کے لیے محفوظ توانائی کے وسائل کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے‘ سولر انرجی کی حوصلہ شکنی کے حامل اس فیصلے کے ماحولیاتی اثرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ہماری حکومتیں گرین انرجی کے پُرکشش نعرے تو بہت لگاتی ہیں اور دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ 2030ء تک نیشنل گرڈ میں قابلِ تجدید وسائل سے پیدا کردہ بجلی کا حصہ 60فیصد تک بڑھا دیا جائے گا مگر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ حکومت کے اس دعوے پر سوالیہ نشان ہے۔ قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کے لیے چاہیے تھا کہ حکومت سولر اور دیگر ماحول دوست وسائل کے لیے زیادہ سہولتیں فراہم کرتی مگر حکومت کے فیصلے ماحول دوست توانائی کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہیں۔

سولر توانائی پر اس سلسلے میں خاص کرم فرمائی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو تبدیل کرنے سے پہلے حکومت رواں مالی سال کے بجٹ میں سولر پینلز کی درآمد پر 10 فیصد ٹیکس بھی عائد کر چکی ہے۔ ملک میں بجلی کی مہنگائی کی وجہ سے حالیہ کچھ برسوں میں سولر توانائی کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 33 گیگا واٹ سے زائد کی پیداواری صلاحیت کے سولر پینلز لگ چکے ہیں۔ ان میں سے چھ گیگا واٹ نیٹ میٹرنگ کے ساتھ منسلک ہیں جبکہ 27گیگا واٹ کی سولر جنریشن کیپسٹی آف گرڈ ہے۔ اب حکومت نے نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو یکایک تبدیل کرنے کا جو کام کیا ہے اس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ گھریلو اور صنعتی صارفین جنہوں نے سولر سسٹم کی تنصیب پر بھاری اخراجات کیے ہیں یا بینکوں سے قرض لے کر سولر سسٹم لگوائے ہیں‘ بجلی کی قیمت فروخت 26 روپے سے 11روپے فی یونٹ کر دیے جانے کے بعد ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ فروخت کے معاہدوں کے بجائے آف گرڈ ہونے کو ترجیح دیں گے۔

اس کا اثر یہ ہو گا کہ نجی بجلی گھروں کی بے حد مہنگی بجلی کی فروخت یقینی بنانے کیلئے حکومت نے سولر پالیسی میں جو تبدیلیاں کی ہیں‘ ان کے منفی اثرات کی وجہ سے لوگ نیشنل گرڈ پر انحصار بڑھانے کے بجائے اپنی بجلی کی ضرورت میں خود کفالت کی طرف جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں قومی گرڈ کے سرپلس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے‘ جس کیلئے یہ سب کچھ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال نجی بجلی گھروں کیساتھ کیے گئے ناقص فیصلوں کی پیداوار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خرابی کو اس کے نقطہ آغاز سے درست کرنے کی کوشش کی جائے‘ نہ کہ ناقص فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے ملکی معیشت اور اعتماد کو قربان کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں