غیر متوازن خوراک
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان کا غذائی نظام معیاری‘ متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی میں ناکام ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں کیلوریز کی مجموعی دستیابی تسلی بخش ہے مگر یہ کیلوریز زیادہ تر اناج‘ چینی اور خوردنی تیل سے حاصل ہو رہی ہیں۔ پھل‘ سبزیاں‘ دالیں اور دیگر غذائیت سے بھرپور اشیا مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہیں۔ یوں ایک ایسا عدم توازن پیدا ہو چکا ہے جس میں پیٹ تو بھر رہا ہے مگر جسم اور دماغ کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔ یہ عدم توازن عوامی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

ایک طرف لاکھوں بچے غذائیت کی کمی‘ کمزوری اور مائیکرونیوٹرینٹس کی قلت کا شکار ہیں تو دوسری جانب بالغ آبادی میں ذیابیطس‘ امراضِ قلب اور دیگر سنگین بیماریوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں میں ابتدائی عمر میں ناقص غذا جسمانی نشوونما کو سست کرتی‘ قوتِ مدافعت کو کمزور کرتی اور ذہنی استعداد پر دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔ اگر ہمارے غذائی نظام میں یہ عدم توازن برقرار رہا تو افرادی قوت کی کمزوری اور معاشی بوجھ کے علاوہ طبی اخراجات میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ ضروری ہے کہ حکومت غذائی پالیسی کو محض پیداوار بڑھانے تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے غذائیت کے معیار سے جوڑے۔