بھارت کی آبی دہشت گردی
بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر ایک نئے‘ ساولکوٹ ڈیم کی تعمیر کا اعلان نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کے پانی کے حق پر ڈاکا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کے حق پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ بھارت اس منصوبے کی تمام تفصیلات فراہم کرے۔ پاکستان کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ مسلسل عالمی فورمز پر اٹھائے جانے کے باوجود بھارت نہ صرف اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے بلکہ پاکستان کے حصے کے مغربی دریاؤں‘ خصوصاً دریائے چناب پر بڑے پیمانے پر ہائیڈرو منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔ دریائے چناب پر ساولکوٹ ڈیم کے علاوہ بھی چھ منصوبے زیرتعمیر ہیں۔

یہ تمام منصوبے مجموعی طور پر ایسے نظام کی تشکیل کرتے ہیں جس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو روکا‘ موڑا یا وقتی طور پر کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائے جانے کے باوجود بھارت نے نہ تو اس معاملے پر سنجیدہ جواب دیا اور نہ ہی عالمی ثالثی عدالت کے فورم پر خاطر خواہ تعاون کیا۔ یہ طرزِ عمل ایک ذمہ دار ریاست کے بجائے ایک ایسے فریق کا تاثر دیتا ہے جو آبی وسائل کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہو۔ پاکستان نے بارہا واضح کیا کہ وہ اس معاملے کا پُرامن حل چاہتا ہے‘ مگر امن یکطرفہ نہیں ہوتا۔ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ دریاؤں پر اجارہ داری کی سوچ نہ تو پائیدار ہے اور نہ ہی خطے کے مفاد میں۔