اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تاریخی ورثے کی مسماری

اسلام آباد میں چند دنوں کے اندر دو اہم تاریخی یادگاروں کو منہدم کر دیا گیا۔ پہلے جنگ عظیم اوّل کی یادگار‘ اور اب سولہویں صدی کی مغلیہ دور کی یادگار۔ شہری ترقی کی اہمیت اپنی جگہ مگر تاریخی ورثے کی حفاظت بھی قومی ذمہ داری ہے۔ یہ یادگاریں صرف اینٹ ‘پتھر کا مجموعہ نہیں خطے کی تاریخ‘ ثقافت اور شناخت کی مظہر ہوتی ہیں۔ جنگ عظیم اوّل کی یادگار مقامی فوجیوں کی قربانیوں کی یادمیں تعمیر کی گئی تھی جبکہ مغلیہ دور کی یادگار فنِ تعمیر‘ سماجی اور تاریخی حالات سے متعلق قیمتی معلومات فراہم کرتی تھی۔اس تاریخی ورثے کو مٹانے کے بجائے اسے محفوظ کرنا چاہیے تھا۔ ان یادگاروں کی تزئین و آرائش کی جاتی تو یہ وفاقی دارالحکومت کے تاریخی پس منظر اور علاقائی اہمیت کو واضح کرتی۔ دنیا بھرمیں تاریخی مقامات کو محفوظ رکھا جاتا ہے‘ مگر ہمارے ہاں تاریخی مقامات حکومتی عدم توجہی کا شکار ہیں۔

یہ یادگاریں اسلام آباد کے باسیوں کا ورثہ تھیں ‘ اس ورثے کو محفوظ رکھا جاتا تو یہ کہیں بہتر تھا۔ان یادگاروں سے مقامی لوگوں کی نسل در نسل یادیں وابستہ ہوں گی مگر ترقیاتی عمل کے نام پر انہیں اس ورثے سے محروم کر دیا گیا۔ تاریخی مقامات کی اہمیت کے پیش نظر دنیا بھر میں ترقیاتی منصوبوں کو ایسے مقامات کی حفاظت یقینی بنانے کا پابند کیا جاتا ہے۔ یہ احتیاط وفاقی دارالحکومت میں ملحوظ خاطر نہیں رکھی گئی جو کہ باعث افسوس ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں