المناک ٹریفک حادثہ
گزشتہ روز کراچی سپر ہائی وے پر آئل ٹینکر‘ منی بس اور دیگر گاڑیوں کے تصادم کے نتیجے میں 13 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ بے احتیاطی‘ قانون شکنی اور انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے ہمارے ملک کی شاہراہیں جان لیوا بنتی جا رہی ہیں۔ ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تیز رفتاری‘ سگنلز اور لین اور لائن کی خلاف وزی ایسے عوامل ہیں جو سڑکوں کو غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں ہر سال 25 سے 30 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ملک کے بڑے شہروں میں ای چالان اور بھاری جرمانوں کے نفاذ سے قانون کی پاسداری اور ٹریفک کی روانی میں بہتری آئی ہے تاہم حالیہ سانحہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ محض جرمانوں پر انحصار کافی نہیں‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ بار بار قوانین توڑنے والوں کے خلاف گرفتاری‘ لائسنس کی مستقل منسوخی اور گاڑی کی ضبطگی جیسے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

ہیوی ٹریفک کیلئے مخصوص لین اور اوقات کار پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے جبکہ کمرشل ڈرائیورز کی باقاعدہ تربیت اور گاڑیوں کی فٹنس جانچ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں حکومت کو ٹریفک قوانین سے متعلق وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلانی چاہیے تاکہ شہریوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔ اگر ریاست سختی دکھائے اور شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ٹریفک حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔