اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جمہوریت کی جیت

بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی بھاری اکثریت سے کامیابی ووٹ کی طاقت اور جمہوریت کی اہمیت کی مظہر ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے دورانِ اقتدار بیگم خالدہ ضیاکی قیادت میں بی این پی ایک کمزور اپوزیشن میں تبدیل ہو گئی تھی جسے سخت پابندیوں‘ مقدمات اور سیاسی انتقام کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے کے مساوی مواقع سے بھی محروم کیا گیا جس کی وجہ سے بی این پی نے 2014ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ حسینہ واجد کی عوامی لیگ نے اگرچہ پارلیمنٹ کی234 نشستوں کے ساتھ دوبارہ انتخابات جیت لیے مگر یہ ایک ایسی جیت تھی جسے بنگلہ دیش میں اور بین الاقوامی سطح پر کبھی منصفانہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ 2018ء کے انتخابات آنے تک بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی شخصی آمریت مزید مستحکم ہو چکی تھی۔ بی این پی کی لیڈر خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے مقدمات میں 17سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا‘ جماعت اسلامی کی قیادت پر بھی یہ دورِ ابتلا تھا۔

جماعت کے کئی رہنماؤں کو سرکاری ٹربیونل کی جانب سے 1971ء کے جھوٹے مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں اور کئی رہنماؤں کو ان کی پیرانہ سالی کا لحاظ کیے بغیر سزائے موت دی گئی۔ اس صورتحال میں جب اپوزیشن کا باب عملی طور پر بند کر دیا گیا تھا اور الیکشن کمیشن حسینہ واجد کی آہنی گرفت میں تھا‘ انتخابی بدعنوانی میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور اس کا اتحاد 90 فیصد سے زائد پارلیمانی نشستوں پر کامیابی کا دعویدار بن گیا‘ مگر یہ نتائج جمہوری اعتبار سے شرمناک تھے۔ 2018ء سے 2024ء تک جمہوری لبادے میں بنگلہ دیش پر حسینہ واجد کی شخصی آمریت کا سورج سوا نیزے پر تھا‘ اور اپوزیشن کی قسمت میں جیلیں‘ پھانسیاں اور ملک بدری آئی۔ تاآنکہ بنگلہ دیش کے نوجوان وسط 2024ء میں اٹھے‘ سر فروشی کی مثالیں قائم کیں اور ایک ایسی حکومت کی چولیں ہلا دیں جو کچھ پہلے تک مؤثر اور مستحکم نظر آتی تھی۔ حسینہ واجد کی شخصی آمریت کا سورج ڈوب گیا اور خود انہیں بھاگم بھاگ بھارت میں پناہ لینا پڑی تاکہ بنگلہ دیش کے قانون کا سامنا کرنے سے بچ سکیں۔

بھارت میں بیٹھی سابق بنگلہ دیشی مطلق العنان حکمران بنگلہ دیشی قوانین کے دائرہ اختیار سے تو محفوظ فاصلے پر ہیں مگر اُن کے بیس سالہ دور میں انسانی اور سیاسی حقوق کو جس طرح ملیا میٹ کیا گیا اس کے نتیجے میں وہ بنگلہ دیشی عوام کے جمہوری انتقام سے نہیں بچ سکیں۔ عوامی لیگ نے اپنے طویل دور میں جس بی این پی کو انتخابی سیاست سے دور رکھنے کا ہر ممکن انتظام کیا حالیہ انتخابات کے نتائج اس کا ردِعمل ہیں۔ 297 پارلیمانی نشستوں میں سے 209 بی این پی کے حصے میں آئی ہیں‘ جماعت اسلامی نے68 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور حسینہ ہٹاؤ انقلاب کے محرک طالب علموں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کو چھ نشستیں ملی ہیں۔ بی این پی کے لیڈر طارق رحمان جو گزشتہ برس دسمبر میں اپنی سترہ سالہ جلاوطنی سے وطن واپس لوٹے‘ بنگلہ دیش کی عنانِ حکومت سنبھالنے کیلئے تیار ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کو انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے اور بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید ظاہر کی ہے تاکہ تاریخی‘ برادرانہ‘ کثیر جہتی دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور دنیا بھر میں امن‘ استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کا یہ بیان قابلِ فہم کہ یہ نئے دورکا آغاز ہے۔ ان انتخابات کی بنگلہ دیش کے عوام کیلئے اہمیت اپنی جگہ مگر یہ جمہوری تکمیل کا عمل خطے کے ممالک کیلئے بھی ایک مثال اور یادگار ثابت ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں