درسی کتب کی قلت
نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو جانے کے باوجود بیشتر علاقوں میں نئی درسی کتب کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے‘ جو تعلیمی نظام کی ترجیحات اور انتظامی صلاحیتوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہر سال نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نئی درسی کتب کا حصول ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے مگر متعلقہ حکام کی جانب سے روایتی خاموشی یا تسلی بخش بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آتے۔ پنجاب میں صورتحال اس لحاظ سے زیادہ تشویشناک ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ اور پبلشرز کے درمیان تنازعات اور کاغذ کی قیمتوں میں اضافے کے سبب لاکھوں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

سرکاری سکولوں میں مفت کتب کی فراہمی کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے مگر تاحال نصاب اکثر سکولوں تک نہیں پہنچ پایا‘ جس کی وجہ سے تدریسی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ سندھ میں بھی ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے پبلشرز کو بروقت ادائیگی نہ ہونا اور ٹینڈرز کی تقسیم میں تاخیر جیسے اسباب نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس میں سب سے زیادہ متاثر وہ طلبہ ہو رہے ہیں جن کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر پبلشرز کو واجبات کی ادائیگی‘ کاغذ کی فراہمی اور ترسیلی نظام کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ درسی کتب کی بروقت فراہمی نہ صرف طلبہ کا بنیادی حق بلکہ ملک وقوم کے مستقبل سے جڑا تقاضا ہے۔