بیرونی سرمایہ کاری میں کمی
حکومت کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاری میں 22 فیصد سے زائد کمی کا اعتراف مالیاتی استحکام کے حوالے سے درپیش چیلنجز کی سنگینی کا اظہار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری تین ارب آٹھ کروڑ ڈالر سے گھٹ کر دو ارب 40 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس کمی کا سبب عالمی حالات اور علاقائی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال جولائی سے رواں سال فروری تک کے مذکورہ اعداد و شمار پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کی فالٹ لائنز کو نمایاں کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے اگرچہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے مگر متاثرہ ممالک میں پاکستان اس لیے سرفہرست ہے کہ ہماری معاشی بنیادیں پہلے ہی سے کمزور ہیں۔ سرمایہ کار ہمیشہ وہاں کا رخ کرتا ہے جہاں اسے سرمائے کے تحفظ اور منافع کا یقین ہو۔

بیرونی سرمایہ کاری میں کمی محض اس بار کا مسئلہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اس ضمن میں ایک بڑی رکاوٹ چلا آ رہا ہے۔ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان اور سیاسی کشیدگی نے ملکی تشخص پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار اس معاملے کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اگر سیاسی سٹیک ہولڈرز نے جلد معاشی میثاق پر اتفاق نہ کیا تو بیرونی سرمایہ کاری کا گراف مزید نیچے گر سکتا ہے‘ جس کا مالیاتی خمیازہ جنگ کے اثرات سے کہیں شدید ہو سکتا ہے۔