جنگ اور معاشی اثرات
تیل کی بڑھتی قیمتوں کے دوران حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔ بسوں کو ماہانہ ایک لاکھ‘ منی بسوں اور ویگنوں کو 40 ہزار جبکہ مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار روپے اور ڈِلیوری وینوں کو 35 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔یہ رقم ڈیزل اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی غرض سے ہے‘ مگر اس کا اثر تب ہی نظر آئے گا جب حکومت کی جانب سے سبسڈی کے ساتھ سخت نگرانی بھی کی جائے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو بھی بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرِ اعانت کے مختلف منصوبے پیش کئے گئے ہیں جن میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کے علاوہ موٹر سائیکلوں اور کاشتکاروں کیلئے بھی کسی قدر اعانت کا اعلان شامل ہے۔ اس رقم کے حجم سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کی تقسیم کا طریقہ کار شفاف ہو تاکہ اس کا فائدہ حقداروں تک پہنچ سکے۔یہی صوبائی حکومتوں کو کارکردگی کا امتحان ہے۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے منڈی اور مارکیٹ کے نرخوں کی نگرانی اور مسافر گاڑیوں میں کرائے کی پوچھ تاچھ کی جائے تو قوی امکان ہے کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی رقم کا فائدہ عوام کو منتقل ہو‘ بصورت دیگر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو عوام پر پڑنے سے نہیں روکا جاسکے گا۔

اس کے آثار پہلے ہی مختلف اشیا کی قیمتوں میں غیر اعلانیہ اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں‘ مثلاً کل کی ایک خبر کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں روٹی کی قیمت بڑھا دی گئی‘ مختلف بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر اس مرحلے میں حکومت قیمتوں کے از خود اضافے کا سختی سے نوٹس نہیں لیتی تو مہنگائی کے طوفان کو روکنا آسان نہ ہو گا۔ مقررہ قیمتوں سے تجاوز کی اس وقت سب سے بڑی مثال ایل پی جی ہے جس کے سرکاری نرخ 304روپے فی کلو مقرر کئے گئے ہیں مگر 500 روپے کے قریب فروخت ہو رہی ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے ایل پی جی کی سپلائی کا مسئلہ اپنی جگہ مگر مصنوعی قلت پیدا کر کے منافع خوری کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا اس لیے صوبائی انتظامیہ کو ایل پی جی کے بحران کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ قدرتی گیس کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے خاص طور پر شہری علاقوں میں گھریلو صارفین کا اپنی ضرورتوں کیلئے ایل پی جی پر انحصار خاصا بڑھ چکا ہے۔ امریکہ ایران جنگ عالمی معیشت کیلئے ڈراؤنا خواب ہے۔آئی ایم ایف کی سربراہ کے مطابق تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ عالمی مہنگائی میں 0.4 فیصد اضافے اور عالمی پیداوار میں 0.2 فیصد کمی کا سبب بنتا ہے جبکہ اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد پچھلے پانچ ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں 55 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
اس دوران عالمی افراط زر 7.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو 2022ء کے بعد بلند ترین سطح ہے‘ لیکن 2022ء کے برعکس‘ جب عالمی معیشت قیمتوں کے جھٹکے کے باوجود بڑھتی رہی‘ اس خلل کی شدت عالمی معیشت کے مکمل سکڑنے کی طرف لے جارہی ہے۔ پاکستان میں جنگ سے متعلق مہنگائی کا دباؤ ظاہر ہونے سے پہلے ہی فروری میں افراطِ زر سات فیصد ریکارڈ کی گئی جو پچھلے 16 ماہ میں سب سے زیادہ تھی۔موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پیش نظر اگلے تین سے چار ماہ کے دوران افراطِ زر بڑھنے کی توقع جارہی ہے کیونکہ توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔افراط زر میں اضافے کے اثرات شرح سود پر بھی پڑنے کا خدشہ موجود ہے جو اس وقت دو سال کی کم ترین سطح پر ہے اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ سنگل ڈیجٹ تک آ جائے گی۔ معاشی لحاظ سے اس غیر یقینی صورتحال میں بچت کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہے۔ حکومت اور عوام کو قومی جذبے کے ساتھ اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے تا کہ اس معاشی دباؤ کو جھیلنے کی صلاحیت بڑھائی جاسکے۔