پٹرولیم لیوی کا بوجھ
پٹرول اور ڈیزل کے ایکس ریفائنری ریٹ میں کمی کے باوجود حکومت نے ان مصنوعات کی قیمتوں میں 26روپے 77پیسے فی لٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے جبکہ ڈیزل کی 380 روپے 19 پیسے فی لٹر تک جا پہنچی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس اضافے کا تعلق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نہیں بلکہ یہ پٹرولیم لیوی اور اِن لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن میں نمایاں اضافے کا نتیجہ ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد پٹرول پر فی لٹر لیوی 107 روپے سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مجموعی ٹیکسوں کا حجم تقریباً 135 روپے فی لٹر ہے۔ اسی طرح ڈیزل پر اِن لینڈ فریٹ مارجن سات روپے 54 پیسے سے بڑھ کر 37 روپے 75 پیسے تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے رواں مالی سال میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1468 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ابتدائی نو ماہ میں اس مد میں 1234 ارب روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات حکومتی ریونیو کا بڑا ذریعہ بن چکی ہیں‘ تاہم اس پالیسی کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خورونوش سمیت ہر شعبے میں مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پٹرولیم لیوی میں کمی کر کے عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے نکالے۔