اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن اور مذاکرات کے تقاضے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد پاکستان سے روانہ ہو چکے ہیں۔ خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے نے ایک بار پھر عالمی توجہ پاکستان کی سفارتی حیثیت پر مرکوز کر دی ہے۔ اس دورے کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی‘ تاہم اس دورے میں ایرانی رہنماؤں اور امریکی نمائندوں میں ملاقات نہیں ہوئی۔ بہرکیف سفارتکاری میں پس پردہ رابطے اور بالواسطہ مذاکرات بھی اہم ہوتے ہیں خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ نازک جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے اور عالمی توانائی کی منڈیاں عدم استحکام کا شکار ہیں۔ توانائی کی بے تحاشا مہنگائی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کیلئے یکساں پریشانی کا موجب ہے۔ توانائی کی مہنگائی کا اثر ترقی کی رفتار پر پڑتا ہے۔ متوسط اور کمزور معیشت والے ممالک ہوں یا گھرانے ان کیلئے یہ صورتحال مزید مشکلات کا سبب بنتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتکاری اور مذاکرات کیلئے سہولت کاری صرف پاکستان‘ امریکہ‘ ایران یا مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے فائدے میں نہیں پوری دنیا کا مفاد اس سے جڑا ہے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ کسی ایک فریق کیساتھ کھڑا ہونے کے بجائے توازن برقرار رکھے ہوئے ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اسے دونوں فریقوں کا اعتماد حاصل ہے۔ تاہم یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔ ایک طرف ایران اپنی ’سرخ لکیروں‘ پر قائم ہے خصوصاً جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے جبکہ دوسری جانب امریکہ دباؤ بڑھانے کے اقدامات میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں مگر ان کے نتائج کا انحصار امریکہ اور ایران کے رویے پر ہے۔ اس لیے فریقین کو لچک اور تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ مذاکرات کیلئے اعتماد کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔ اگر فریقین دباؤ بڑھانے کے اقدامات اور سرخ لکیروں پر جمے رہنے کی حکمت عملی پر نظر ثانی کیلئے تیار نہیں ہوتے تو دنیا کیلئے اس کشیدگی کے منفی اثرات سے نکلنے کی امید خاصی کم ہو جاتی ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مطالبات یا فریقِ مخالف پر دھونس جمانے کا تاثر مذاکرات کو ناکام بنا دیتا ہے۔

خلیج فارس میں کشیدگی خصوصاً امریکی بحری ناکہ بندی مذاکرات کی پیش رفت کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس حکمت عملی سے امریکہ ایرانی بحری تجارت خصوصاً تیل کی برآمدات پر اثر انداز ہو کر اسے معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی تلاش کے عمل پر اس کے منفی اثرات پائیدار امن کے امکان کو کم کر دیتے ہیں۔ امریکہ اور ایران مذاکرات کی اب تک کی پیش رفت امید اور غیریقینی کے درمیان معلق ہے۔ دونوں ملک اس عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن اور ہم آہنگی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کا براہِ راست مذاکرات کے بغیر واپس جانا ایک اشارہ ہے کہ اعتماد کی کمی موجود ہے‘ مگر یہ صورتحال جذباتی بیانات سے زیادہ عملی سفارت کاری کا تقاضا کرتی ہے۔

اگر ایران اور امریکہ نے تحمل‘ لچک اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا تو دونوں ملکوں کے مذاکرات میں بڑی پیش رفت خارج از امکان نہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ خطے کا امن سنجیدہ‘ مسلسل اور دانشمندانہ مذاکرات سے جڑا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک جو رکاوٹیں ہیں وہ باہمی اعتماد کی کمی کی وجہ سے ہیں۔ امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں