غذائی عدم تحفظ
گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز 2026ء کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر شدید غذائی عدم تحفظ کے شکار دس ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کے ساتھ افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ کانگو‘ میانمار‘ نائیجیریا‘ سوڈان‘ شام اور یمن جیسے ممالک موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 90لاکھ پاکستانی بحرانی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ 17لاکھ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جنہیں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے فوری خوراک کی فراہمی ضروری ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں غذائی اجناس وافر مقدار میں میسر ہیں‘ اسکے باوجود تقریباً 90لاکھ پاکستانیوں کا غذائی قلت کا شکار ہونا کسی المیے سے کم نہیں۔ اس غذائی قلت کا سبب مہنگائی کی وہ لہر ہے جس نے معاشرے کے ہر طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک میں غذائی اجناس وافر موجود ہونے کے باوجود وہ غریب اور پسماندہ طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی تقریباً 45 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ روز افزوں مہنگائی میں کمزور طبقوں کیلئے بنیادی اشیائے خورونوش کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کو لوگوں کی قوتِ خرید بڑھانے کے علاوہ مہنگائی کے بے قابو طوفان کو کنٹرول کرنا چاہیے تاکہ بڑھتی غذائی قلت پر قابو پایا جا سکے۔ نیز شدید غذائی قلت کے شکار افراد کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی اور مفت راشن کی فراہمی سے بھی اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔