فضائی آلودگی، مستقل مسئلہ
گلوبل ایئر پولیوشن رینکنگ میں 344ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ فضائی آلودگی اب کسی ایک موسم یا سموگ کے چند دنوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل‘ ہمہ گیر اور پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لاہور سمیت ملک کے بڑے شہری مراکز میں آلودگی کی بنیادی وجہ ٹرانسپورٹ سیکٹر ہے۔ اربن یونٹ کی 2023ء کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں تقریباً 83 فیصد فضائی آلودگی گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کا نتیجہ ہے۔ فضائی آلودگی کے حوالے سے حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی وقتی اور ردِعمل پر مبنی ہے جو سموگ کے دنوں میں وقتی ریلیف تو فراہم کرتی ہے مگر یہ دیرپا حل نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیاتی پالیسی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے ایک مستقل سائنسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے۔ شہری علاقوں میں فضائی آلودگی میں کمی کیلئے الیکٹرک گاڑیوں‘ بالخصوص الیکٹرک رکشوں اور موٹر سائیکلوں کا فروغ ناگزیر ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے چند روٹس پر الیکٹرک بسیں چلائی ہیں مگر اس کا دائرہ کار نہایت محدود ہے۔ اسی طرح صنعتی شعبے میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔ شہری منصوبہ بندی میں سبزہ زاروں اور درختوں کی تعداد میں اضافہ بھی فضا میں آلودہ ذرات کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔