مہنگائی کا طوفان
حکومتی وعدوں اور دعوؤں کے باوجود مہنگائی کا طوفان تھمنے میں نہیں آ رہا۔ اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 22 ماہ کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہو کر تقریباً 11فیصد تک پہنچ گئی۔ اس مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ اشیائے خورونوش پر پڑنے سے یہ عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کے عالمی اور علاقائی عوامل اپنی جگہ موجود ہیں لیکن داخلی سطح پر منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی نے اس مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں میں اتوار کے روز سرکاری نرخ نامے کی کھلم کھلا خلاف ورزی اس کی واضح مثال ہے جہاں ٹماٹرمقررہ قیمت سے 25روپے‘ پیاز 15روپے‘ آلو30روپے‘ ادرک 115اور لہسن 70روپے فی کلو مہنگے فروخت ہوئے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔

مہنگائی میں روز افزوں اضافے کے باوجود انسدادِ گرانی کمیٹیوں کی کارکردگی محض سرکاری نرخ نامے جاری کرنے تک محدود دکھائی دیتی ہے جبکہ اصل چیلنج ان نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے‘ جو کہ نظر نہیں آتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض اعلانات اور کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور مارکیٹوں میں مؤثر مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ تنخواہوں اور اجرتوں میں مناسب اضافہ‘ ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرامز اور سماجی تحفظ کے مؤثر اقدامات اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔